جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

روزے انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید اور ضروری ہیں، ملکی و بین الاقوامی ماہرین کی انتہائی مفید باتیں

datetime 19  اپریل‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) پاکستانی اور بین الاقوامی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ رمضان کے مہینے میں مسلسل روزے رکھنے سے سے وزن میں کمی لاکر ناصرف شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ مسلسل روزے رکھنے سے ذہنی حالت بہتر ہوتی ہے اور مختلف اقسام کے کے کینسر سے بچا بھی ممکن ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ کرنا چاہئے

تاکہ ان کی دواں اور انسولین کی ڈوز میں رمضان کے لحاظ سے مطابقت لائی جاسکے جبکہ انہیں ماہرین غذائیت سے مشورہ کرکے ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں وہ بغیر کسی دشواری کے روزے رکھ سکیں اور رمضان کے اختتام پر ان کا وزن بھی کم ہو سکے۔ان خیالات کا اظہار ملکی اور بین الاقوامی ماہرین صحت نے گزشتہ روز چھٹی بین الاقوامی ذیابطیس اور رمضان آن لائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بقائی انسٹیٹیوٹ آف دائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کی جانب سے کیا گیا تھا اور دنیا بھر سے 10 ہزار سے زائد لوگوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی۔بین الاقوامی کانفرنس سے پاکستان سمیت امریکا، برطانیہ، سعودی عرب، قطر سمیت دیگر کئی ملکوں سے ماہرین نے شرکت کی اور رمضان کے حوالے سے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر خالد طیب کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہر سال ذیابطیس میں مبتلا کروڑوں مسلمان روزے رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی روزوں کے روحانی اور جسمانی فوائد سے فیضیاب ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی لاعلمی کے باعث بیماری میں اضافے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے ذیابطیس کے مریضوں کو تیاری شروع کر دینی چاہیے اور ماہرین صحت کے مشورے سے اپنی دواں اور غذا میں تبدیلی لانا شروع کر دینی چاہیے۔

رمضان شروع ہونے سے پہلے روزوں کی تیاری سی ذیابطیس کے مریض کسی مشکل کا شکار نہیں ہوتے اور نہایت آسانی سے سے 30 دن کے روزے مکمل کرتے ہیں اور ماہِ مقدس کی روحانی اور جسمانی فوائد سے فیضیاب ہوتے ہیں۔کانفرنس کے چیئرمین اور رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ پاکستان کے سربراہ پروفیسر یعقوب احمدانی نے اپنی اور بین الاقوامی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کے مسلسل تیس دن کے روزے رکھنے سے وزن میں کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے

جس کے نتیجے میں نہ صرف ذیابطیس کا کنٹرول بہتر ہوتا ہے بلکہ کولیسٹرول اور بلڈپریشر میں کمی لا کر دل کی بیماریوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔پروفیسر یعقوب احمدانی کا مزید کہنا تھا کہ رمضان کے روزے دماغی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں اور ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ روزے ڈپریشن، گھبراہٹ اور ذہنی دبا کم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روزے رکھنے سے کینسر سے بچا میں بھی مدد ملتی ہے لیکن ان تمام فوائد کو حاصل کرنے کے لیے تمام مریضوں کو اپنے معالجین کی ہدایات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔پاکستان کے معروف ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ایسے لوگ جو کہ انسولین استعمال کرتے ہیں وہ بھی روزے رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اگر روزے کے دوران ان کی شوگر انتہائی کم یا زیادہ ہو جائے تو وہ روزہ توڑ دیں گے کیونکہ اللہ تعالی انسانوں سے فرماتا ہے کہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔

ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ آج سے دس پندرہ سال قبل انسولین استعمال کرنے والے مریضوں کو روزہ رکھنے سے منع کردیا جاتا تھا لیکن آج تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر انسولین استعمال کرنے والے مریض اپنے معالج سے مشورہ کریں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں تو وہ بھی بغیر کسی دشواری کے تیس دن تک نہایت سکون سے روزے رکھ سکتے ہیں۔برطانیہ کی معروف ماہر غذائیت سلمی مہر کا کہنا تھا کہ رمضان کے مہینے کو کھانے پینے کا تہوار سمجھنے کے بجائے اس کی روح کے مطابق گزارا جائے تو نہ صرف جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ بے شمار روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر برصغیر کے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ نہایت احتیاط کے ساتھ ایسی غذائیں استعمال کریں جو ان کے وزن میں اضافے کے بجائے ان کو صحت مند رکھیں خاص طور پر بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی، سبزیاں اور دالیں استعمال کی جائیں۔کانفرنس سے قطری ماہر ذیابطیس ڈاکٹر ریاض ملک، معروف پاکستانی انڈوکرائنالوجسٹ ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر ظفر عباسی سمیت دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…