بدھ‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2025 

نارمل ملک

datetime 27  فروری‬‮  2025
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ دوست ہوتے تھے شیخ عبدالحفیظ‘ میں انہیں بابا جی کہا کرتا تھا‘ وہ رمل کے ساتھ ساتھ زندگی کے بھی ماہراعظم تھے‘ شیخ صاحب نے زندگی کے ہر موڑ پر میری رہنمائی کی‘ وہ انتقال کر گئے ہیں لیکن میں روزانہ سونے سے قبل ان کے لیے دعا کرتا ہوں‘ حکیم بابر کو شیخ حفیظ صاحب میرے پاس لے کر آئے تھے‘ میں ٹھیک ٹھاک مردم بیزار ہوں‘ میری کوشش ہوتی ہے میں کسی کو اپنے قریب نہ ٹکنے دوں‘ اس کی دو وجوہات ہیں‘ اول میں نے زندگی کو غیرضروری مصروف کر رکھا ہے‘ صبح سے لے کر رات دو بجے تک مصروفیت چلتی ہے لہٰذا اتنی مصروفیت میں نیا تعلق بنانا اور نبھانا دونوں مشکل ہو جاتا ہے اور دوم ہر انسان کے تعلقات کی ایک کیپسٹی ہوتی ہے‘

آپ فرض کریں آپ کے پاس پانچ سیٹس کی گاڑی ہے‘ آپ اس کار میں زیادہ سے زیادہ کتنے لوگ بٹھا لیں گے؟ آپ بہت بڑا تیر چلا لیں تو بھی آپ گاڑی میں چھ سے زیادہ لوگ نہیں ٹھونس سکیں گے‘ تعلقات کی گاڑی کی بھی لمٹ ہوتی ہے اگر سیٹیں پہلے سے فل ہیں تو پھر آپ نئے لوگوں کے لیے گنجائش کیسے پیدا کریں گے؟ میرے تعلقات کی گاڑی بھی مدت پہلے فل ہو گئی تھی‘ اس میں نئے لوگوں کی سپیس موجود نہیں اورآخری بات میری عمر پچاس سال سے زیادہ ہو چکی ہے اور اس عمر میں تعلقات بنائے نہیں جاتے ان سے جان چھڑائی جاتی ہے چناں چہ میں نے حکیم بابر سے بھی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن میری تمام کوششیں ناکام ہو گئیں‘ یہ دروازے کے ساتھ لٹکا رہا لہٰذا میں ہمت ہار گیا اور یہ اب گاڑی کے اندربیٹھا ہے‘ حکیم صاحب ہمارے ٹور میںبھی ہمارے ساتھ ہوتے ہیں‘

یہ تیسری مرتبہ ہمارے ساتھ ازبکستان گئے‘ ہم بخارہ شہر پہنچے تو حکیم صاحب نے کاسٹیوم کی دکان سے بادشاہ کا لباس‘ تاج اور تلوار کرائے پر لے لی اور بادشاہ بن کر بخارہ کے مینار کے نیچے کھڑے ہو گئے‘ حکیم صاحب کی ناف تک سفید داڑھی ہے‘ لوگ اتنی لمبی داڑھی کا بادشاہ دیکھ کر ٹھٹک گئے اور دھڑا دھڑ ان کے ساتھ تصویریں بنوانے لگے‘ میں انہیں ساتھ لے کر آہستہ آہستہ بخارا کی گلیوں میں گھومنے لگا‘ ہم جب بخارہ کے قدیم حمام کے قریب پہنچے تو ہمیں فون آ گیا کاسٹیوم کے مالک نے پولیس بلا لی ہے‘ ہم نے وجہ پوچھی تو دکان دار نے بتایا‘ ازبکستان میں کوئی شخص چاقو یا چھری لے کر بھی گھر سے باہر نہیں جا سکتا جب کہ آپ لوگ پوری تلوار لے کر سڑک پر گھوم رہے ہیں‘ یہ قانوناً جرم ہے چناں چہ فوراً واپس آئیں اور تلوار جمع کرائیں ورنہ پولیس کیس بن جائے گا‘ ہم فوراً واپس پلٹے‘ دکان دار سے معذرت کی اور اس کی تلوار اور کاسٹیوم واپس کر دیا۔

ہمارے گروپ کے لیے یہ تجربہ حیران کن تھا‘ دوسرا تجربہ اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا‘ ازبک لوگ مذہبی ہیں‘ یہ تلاوت بھی کرتے ہیں اور نماز بھی باقاعدگی سے پڑھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر ریستوران میں ڈانسنگ فلور تھا‘ ڈنر کے وقت ریستوران میں ڈی جے میوزک بجاتا تھا اور خواتین اور مرد کھڑے ہو کر ڈانسنگ فلور پر ڈانس کرتے ہیں‘ ریستورانوں میں بیلی ڈانس بھی معمول ہے تاہم آپ کو سڑکوں‘ چوکوں اور چوراہوں میں ڈانس اور میوزک کی آواز نہیں آتی‘ سوسائٹی باہر سے مکمل پرامن ہے‘ یہ ملک ایک سائیڈ سے پورا مذہبی ہے‘ حکومت پرانی مسجدوں کو بحال کرتی چلی جا رہی ہے‘ تاشقند کی ایک مسجدکی چھت پر سونے سے پورا قرآن مجید تحریر ہے اور یہ کارنامہ روس کے ایک ازبک ارب پتی تاجر نے سرانجام دیا‘ ہمارے پورے ملک میں ایک بھی ایسی مسجد نہیں جس میں سونے سے پورا قرآن مجید تحریر ہو‘ ازبک حکومت پرانے مدارس کو بھی ایکٹو کر رہی ہے‘ ان میں باقاعدہ مذہبی تعلیم دی جاتی ہے اور نوجوان مفتی بننے کے بعد درس وتدریس کرتے ہیں اور مساجد میں امامت کے فرائض بھی نبھاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ازبکستان میں ڈسکوز بھی ہیں‘ پبز بھی اور شراب کی دکانیں بھی تاہم کوئی شخص سڑک یا عوامی مقام پر شراب نوشی نہیں کر سکتا‘ ملک میں جس طرح عبادت صرف عبادت خانوں یا گھروں پر کی جا سکتی ہے بالکل اسی طرح شراب نوشی بھی ریستوران‘ پب یا گھر میں ہو سکتی ہے‘ سڑک یا عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی ہے‘

آپ کو سڑکوں پر فوجی گاڑیاں یا پولیس بھی دکھائی نہیں دیتی لیکن اس کے باجود ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کی جاتی ہے‘ ٹریفک سگنل اور زیبرا کراسنگ سے پندرہ فٹ کے فاصلے پر سڑک پر سفید لائنیں لگی ہیں‘ تمام گاڑیاں ان لائنوں سے پیچھے رکتی ہیں چناں چہ سگنل اور زیبرا کراسنگ دائیں اور بائیں دونوں جانب سے پندرہ پندرہ فٹ خالی ملتی ہے تاکہ کراس کرنے والے لوگ اطمینان سے سڑک کراس کر سکیں‘ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو‘ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کیا یہ لوگ اچھے مسلمان ہیں؟ یہ سو فیصد اچھے اور کھرے مسلمان ہیں‘ صفائی اگر نصف ایمان ہے تو آپ کو پورے ازبکستان میں سو فیصد صفائی ملے گی‘ ہمیں کسی موڑ‘ چوک یا گلی میں کچرا نظر نہیں آیا اور اگر اخلاق‘ عاجزی‘ مروت‘ مہمان نوازی اور ایمان داری بھی ایمان ہیں تو پھر آپ کو ازبکستان میں یہ تمام عناصر بھی پوری طاقت کے ساتھ ملتے ہیں‘ پیچھے رہ گئی شراب اور ڈانس تو یہ لوگوں کے ذاتی فعل ہیں اور کسی کو کسی کے کسی بھی ذاتی فعل پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا‘ کوئی کسی کو کم یا زیادہ مسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا‘ تمام عوام قانون‘ روایات اور اخلاقیات کی پابندی کرتے ہیں اور بس لہٰذا ہم ازبکستان کو ایک نارمل سوسائٹی کہہ سکتے ہیں‘ ایک ایسی نارمل سوسائٹی جس میں عبادت اور رقص دونوں سہولتیں دستیاب ہیں‘لوگ جو راستہ اختیار کرنا چاہیں انہیں مکمل آزادی حاصل ہے جب کہ ہم اوپر سے لے کر نیچے تک ایک ابنارمل سوسائٹی ہیں۔

ہم ایک سائیڈ پر مذہب کے نام پر لوگوں کو جلا دیتے ہیں‘ حروف تہجی کی قمیض پہننے پر خاتون کو بازار میں یرغمال بنا لیتے ہیں‘ گورنر سلمان تاثیر کو گولی مار دیتے ہیں جب کہ دوسری طرف پاکستان کی شراب ایوارڈ حاصل کرتی ہے‘ ملک میں شراب پر پابندی ہے لیکن دوسری طرف اداکار ساجد حسن کا بیٹا ساحر حسن کورئیر کمپنیوں کے ذریعے ہر ماہ اڑھائی کلو ویڈ منگواتا تھا اور یہ اسے دس ہزار روپے فی گرام کے حساب سے فروخت کرتا ہے‘ملک میں شراب پر پابندی ہے لیکن چرسی اور ہیرونچی پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں‘ آپ کسی شہر میں چلے جائیں آپ کو وہاں جہاز ملیں گے اور ان جہازوں کو روزانہ کی بنیاد پر نشہ بھی دستیاب ہو گا‘ ہمارے ملک میں مذہبی تہوار اتنے جوش اور جذبے سے منائے جاتے ہیں کہ حکومت انٹرنیٹ‘ فون اور سڑکیں بند کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بے ایمانی کا یہ عالم ہے لوگ جعلی آب زم زم بیچتے ہیں‘ خوراک اور ادویات میں ملاوٹ کرتے ہیں اور آپ کو پورے ملک میں خالص دودھ‘ دہی اور گھی نہیں ملتا‘ گوشت اور مرغی کی کوالٹی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ ہم ایک سائیڈ پر ماتھے پر محراب کا نشان بنوا لیتے ہیں اور دوسری سائیڈ پر ہم بھکاریوں کو سعودی عرب اور دوبئی بھجوا دیتے ہیں اور یہ وہاں مانگ مانگ کر ملک کا نام روشن کرتے ہیں‘ ہمارے تمام ائیرپورٹس سے روزانہ ہیومین سمگلرز اور سمگلر منشیات کے ساتھ پکڑے جاتے ہیں‘

ہماری عدالتیں اورجج عوام کو انصاف دینے کی بجائے ایک دوسرے کو خط لکھتے رہتے ہیں‘ پولیس جرائم کنٹرول کرنے کی بجائے اپوزیشن کو ڈنڈا ڈولی کرتی ہے اور فوج سرحدوں کی حفاظت کے بجائے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کنٹرول کر رہی ہے اور پیچھے رہ گئی حکومت تو یہ ترقیاتی کاموں کی بجائے فارم 47 کی دھوتی سنبھال کر بیٹھی ہے چناں چہ آپ اس ملک میں کوئی ایک چیز نارمل دکھا دیں‘ پورے ملک میں نماز کے وقت آدھ آدھ گھنٹہ اذان کی آواز آتی ہے اور دوسری طرف پاکستان گندی فلمیں اور گندے کلپس دیکھنے میں پہلے نمبر پر آتا ہے‘ وزیراعظم ہر تین سال بعد اپنے باس کا انتخاب کرتا ہے اور پھر ون پیج پر فخر کرتا ہے‘ کیا یہ رویے نارمل ہیں!کیا ہم ایک نارمل ملک ہیں؟ ہم اگر واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو نارمل کرنا ہو گا‘ ملک کو بھی دوسرے نارمل ملکوں کی طرح ایک نارمل ملک بنانا ہو گا‘ اداروں کا جو کام ہے انہیں اس کام پر لگانا ہو گا‘ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے‘ اسے بیانیے کی جنگ سے نکال کر سرحدوں پر لگانا ہو گا‘ الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کرانا ہے‘

اس سے فری اینڈ ٹرانسپیرنٹ الیکشن کا کام لینا ہو گا‘ پولیس کا کام جلسے اور جلوس روکنا نہیں‘ اسے اس کام سے نکال کر جرائم کنٹرول کی طرف واپس لانا ہو گا اور عدالتوں کا کام انصاف دینا ہے ہمیں ان سے بھی صرف یہی کام لینا ہو گا‘ مرضی کی عدالت اور مرضی کے ججوں کا کھیل اب اس ملک میں بند ہونا چاہیے اور شہروں کی صفائی ستھرائی اور انتظام وانصرام بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے‘ ہمیں ایک ہی بار یہ ادارے بنا کر انہیں یہ اختیار بھی دینا ہو گا‘ حکومتیں اور ادارے پوری دنیا میں ون پیج ہوتے ہیں‘ ہمیں اس بخارسے بھی آزاد ہونا ہو گا اور عوام کو کیسے زندگی گزارنی چاہیے لوگ کرکٹ کھیلیں گے یا ڈانس کریں گے یا پوری پوری رات مسجدوں میں گزاریں گے یہ فیصلہ بھی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے‘ ریاست یا معاشرے کو اس پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے اور دوسرا ملک میں اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہونی چاہیے‘ عوامی اسلحے پر بھی اور سرکاری اسلحے پر بھی‘ آپ کو اس وقت مسجد سے لے کر سپریم کورٹ تک ہر عمارت کے سامنے مسلح گارڈز نظر آتے ہیں‘ کیا یہ رویہ نارمل ہے؟ ہرگز نہیں چناں چہ اس ملک کا سب سے بڑا چیلنج نارمل ملک دکھائی دینا ہے‘ ہم نے جس دن اسے نارمل ملکوں جیسا نارمل بنا لیا اس دن یہ ملک‘ ملک بھی بن جائے گا اور یہ ترقی بھی کر جائے گا ورنہ یہ ابنارمیلٹی ہمیں دلدل میں گری بس کی طرح آہستہ آہستہ نگلتی چلی جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نارمل ملک


حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…

ازبکستان (مجموعی طور پر)

ازبکستان کے لوگ معاشی لحاظ سے غریب ہیں‘ کرنسی…

بخارا کا آدھا چاند

رات بارہ بجے بخارا کے آسمان پر آدھا چاند ٹنکا…

سمرقند

ازبکستان کے پاس اگر کچھ نہ ہوتا تو بھی اس کی شہرت‘…

ایک بار پھر ازبکستان میں

تاشقند سے میرا پہلا تعارف پاکستانی تاریخ کی کتابوں…

بے ایمان لوگ

جورا (Jura) سوئٹزر لینڈ کے 26 کینٹن میں چھوٹا سا کینٹن…

صرف 12 لوگ

عمران خان کے زمانے میں جنرل باجوہ اور وزیراعظم…

ابو پچاس روپے ہیں

’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ…

ہم انسان ہی نہیں ہیں

یہ ایک حیران کن کہانی ہے‘ فرحانہ اکرم اور ہارون…

رانگ ٹرن

رانگ ٹرن کی پہلی فلم 2003ء میں آئی اور اس نے پوری…