پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

میں اپنے بچے کو سامنے دیکھ کر بھی گلے نہیں لگا سکتا سعودی ڈاکٹرکے دُکھ نے سب کو آبدیدہ کردیا

datetime 27  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں کرونا وائرس کے پھیلنے سے جہاں مریضو ں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے وہیں ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرز اور نرسز کی نجی زندگیاں بھی متاثر ہو رہی اور آزمائش میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔ عربی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک ڈاکٹر کی آپ بیتی شائع ہوئی جس میں ڈاکٹر فلمبان نے کرونا وائرس کے سے پیدا ہونیوالے والے حالات کے بارے میں تبایا ۔

وہ ایئرپورٹس کلینکس کے ڈائریکٹر ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ طبی عملہ اپنی فیملیوں سے ملنے سے محروم ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی وجہ سے ان کی وجہ سے کوئی وائرس کا شکار ہوا جس کیلئے وہ ساری زندگی دکھی رہیں گے ۔ ڈاکٹر فلمبان نے بتایا کہ میری مختصر سے فیملی ہے بیوی اور ایک بیٹا ۔ جب میں کلینک سے واپس گھر گیا تو میرا بچہ روزانہ کی طرح دوڑ کر میری طرف بھاگا جس کیلئے میں نے اپنے بازو پھیلا دیئے لیکن یک انجانی قوت نے مجھے روک لیا میری آنکھیں بھیگ گئیں اور میں نے بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول کیا اوربچے کو واپس اندر بھیجا ، انہوں نے مزید بتایا کہ کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کی وجہ سے میں نے احتیاطً خود کو والدین اور بیوی بچوں سے دور کر لیا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے فرنٹ لائن پر نبرد آزما ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈکس کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اٹلی میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی آئی سی یو سے شیئر کی گئیں تصاویر نے دنیا بھر میں لوگوں کو ان کا گرویدہ کر لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں اور نرسوں نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ آئی سی یو میں مریضوں کے علاج کے لئے کئی گھنٹے حفاظتی کٹس اور سامان پہنے رکھنے کے باعث ڈاکٹرز اور نرسوں کے چہروں پر زخم ہو گئے۔سوشل میڈیا پر ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں لوگ ان ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کو ہیرو قرار دے رہے ہیں۔واضح رہے اٹلی میں کورونا کے بڑھتے کیسز اور ہلاکتوں کے باعث لاک ڈاون بھی جاری ہے۔ جبکہ یہاں عالمی وبا سے مرنے والوں کی تعداد 7503 ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…