کرنسی نوٹوں کو کورونا وائرس سے بالکل پاک کیسے کیا جائے؟ ماہرین نےزبردست طریقہ بتا دیا

  جمعرات‬‮ 26 مارچ‬‮ 2020  |  12:41

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستانی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ملک میں پاکستانی یا غیر ملکی کرنسی نوٹوں کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے یہ ضروری ہوچکا ہے کہ نوٹوں کوجیب یا لاکرمیں رکھنے سے پہلے گرم استری کے ساتھ اچھی طرح پریس کیا جائے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں شامل متعدد ڈاکٹروں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں یہ عمل ہر شہری کو سرانجام دینا چاہیے۔کوشش کی جائے کہ وصول کیے جانے والے کرنسی نوٹوں کو کاغذ کے کسی لفافے میں رکھ کرجیب میں رکھا جائے اور موقع ملتے ہی


اُن نوٹوں کو گرم استری سے پریس کرلیا جائے۔طبی ماہرین کے مطابق دوکانداروں کو گاہگ سے ملنے والے نوٹوں کو گننے کے عمل کے دوران ماسک پہننا چاہیے اور گنتی ختم ہوتے ہی اپنے ہاتھ سینی ٹائزر سے صاف کرنے چاہئیں۔طبی ماہرین نے کرنسی نوٹوں کے عوض مصنوعات کی خریداری کرنے والوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ رقم جیب ،پرس یا بٹوے میں رکھنے سے پہلے حفظ ماتقدم کے طور پر انہیں اچھی طرح استری سے پریس کرلیں۔ایک سوال کے جواب میں ایک طبی ماہر نے یہ رائے دی کہ کورونا وائرس اے ٹی ایم مشینوں سے نکلنے والے نوٹوں سے بھی لگ سکتا ہے، کیوں کہ بینک کے عملے کو بھی علم نہیں کہ کس نوٹ کے ساتھ وائرس چپکا ہوا ہے۔ اس طرح بینکوں میں نصب اے ٹی ایم مشین کو استعمال کرنے کے بعد بھی ہاتھوں کو سینی ٹائزر سے فوراً صاف کرنا چاہیے کیوں کہ ان مشینوں کی اسکرین اور بٹنوں کو ہر طرح کا صارف استعمال کرتاہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

یہ تو کچھ بھی نہیں

وہ ہر چیز‘ ہر حادثے‘ ہر پریشانی اور ہر مسئلے کو معمولی سمجھتے تھے اور ہمیشہ ’’ یہ تو کچھ بھی نہیں‘‘ کہہ کر ٹال دیتے تھے‘ میں انہیں ’’ انکل یہ تو کچھ بھی نہیں‘‘ کہتا تھا‘ یہ ان کا ’’نک نیم‘‘ تھا‘ میں نے ان کے منہ سے یہ فقرہ پہلی ملاقات میں سنا تھا‘ میں انہیں ائیر ....مزید پڑھئے‎

وہ ہر چیز‘ ہر حادثے‘ ہر پریشانی اور ہر مسئلے کو معمولی سمجھتے تھے اور ہمیشہ ’’ یہ تو کچھ بھی نہیں‘‘ کہہ کر ٹال دیتے تھے‘ میں انہیں ’’ انکل یہ تو کچھ بھی نہیں‘‘ کہتا تھا‘ یہ ان کا ’’نک نیم‘‘ تھا‘ میں نے ان کے منہ سے یہ فقرہ پہلی ملاقات میں سنا تھا‘ میں انہیں ائیر ....مزید پڑھئے‎