ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کورونا نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی ہتھیار کے بغیر بھی دنیا ختم کی جا سکتی‘‘ ایٹم بم اور میزائل مہلک وبا کے آگے بے بس ہو گئے ، کسی سپر پاور کو ایٹم بم یا میزائل کرونا وائرس سے نہیں بچا سکتا ہے ، مسلمانوں کو کرونا وائرس سے بچائو کا بہترین حل بتا دیا گیا

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وارننگ ہے، انسان کے بنائے ہوئے ایٹم بم اور میزائل کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سب سے ضروری احتیاط اللّٰہ تعالیٰ سے معافی ہے،

کورونا وائرس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چھوٹی سی وارننگ ہے، اللّٰہ تعالیٰ کے اس عذاب کے سامنے انسان کے بنائے ہوئے ایٹم بم اور مزائل جن سے تمام دنیا ڈرتی ہے سب اس کے سامنے بے بس ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کورونا نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی ہتھیار کے بغیر بھی دنیا ختم کی جا سکتی ہے۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اور چیزوں کے ساتھ ساتھ سب سے ضروری ہے کے ہم اللّٰہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور تمام مکاتب فکر کو اس معاملے میں یکجا ہونا چاہیے، اس وقت لوگوں کو شعور کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ گروپ ایک بہت بڑا ادارہ ہے جو پاکستان میں اور باہر بھی لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کر سکتا ہے اس لیے میر شکیل الرحمٰن کو فوری طور پرضمانت پر رہا کر دینا چاہیے، اس مشن میں انہیں ساتھ ملانا چاہیے کیوں کے ان کے والد قائداعظم کے دور سے لے کر آج تک پاکستان کے خیر خواہ رہے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ صحافت میں ان کا بہت بڑا نام تھا اس لیے ابھی ہمیں پلاٹوں شلاٹوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا خاص طور پر مسلمانوں سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ راہ راست پر آجائیں اور بھول جائیں کہ کسی سپر پاور کا کوئی ایٹم بم یا مزائل انہیں کورونا سے بچا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…