ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کورونا نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی ہتھیار کے بغیر بھی دنیا ختم کی جا سکتی‘‘ ایٹم بم اور میزائل مہلک وبا کے آگے بے بس ہو گئے ، کسی سپر پاور کو ایٹم بم یا میزائل کرونا وائرس سے نہیں بچا سکتا ہے ، مسلمانوں کو کرونا وائرس سے بچائو کا بہترین حل بتا دیا گیا

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وارننگ ہے، انسان کے بنائے ہوئے ایٹم بم اور میزائل کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سب سے ضروری احتیاط اللّٰہ تعالیٰ سے معافی ہے،

کورونا وائرس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چھوٹی سی وارننگ ہے، اللّٰہ تعالیٰ کے اس عذاب کے سامنے انسان کے بنائے ہوئے ایٹم بم اور مزائل جن سے تمام دنیا ڈرتی ہے سب اس کے سامنے بے بس ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کورونا نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی ہتھیار کے بغیر بھی دنیا ختم کی جا سکتی ہے۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اور چیزوں کے ساتھ ساتھ سب سے ضروری ہے کے ہم اللّٰہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور تمام مکاتب فکر کو اس معاملے میں یکجا ہونا چاہیے، اس وقت لوگوں کو شعور کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ گروپ ایک بہت بڑا ادارہ ہے جو پاکستان میں اور باہر بھی لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کر سکتا ہے اس لیے میر شکیل الرحمٰن کو فوری طور پرضمانت پر رہا کر دینا چاہیے، اس مشن میں انہیں ساتھ ملانا چاہیے کیوں کے ان کے والد قائداعظم کے دور سے لے کر آج تک پاکستان کے خیر خواہ رہے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ صحافت میں ان کا بہت بڑا نام تھا اس لیے ابھی ہمیں پلاٹوں شلاٹوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا خاص طور پر مسلمانوں سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ راہ راست پر آجائیں اور بھول جائیں کہ کسی سپر پاور کا کوئی ایٹم بم یا مزائل انہیں کورونا سے بچا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…