پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

’’ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کورونا نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی ہتھیار کے بغیر بھی دنیا ختم کی جا سکتی‘‘ ایٹم بم اور میزائل مہلک وبا کے آگے بے بس ہو گئے ، کسی سپر پاور کو ایٹم بم یا میزائل کرونا وائرس سے نہیں بچا سکتا ہے ، مسلمانوں کو کرونا وائرس سے بچائو کا بہترین حل بتا دیا گیا

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وارننگ ہے، انسان کے بنائے ہوئے ایٹم بم اور میزائل کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سب سے ضروری احتیاط اللّٰہ تعالیٰ سے معافی ہے،

کورونا وائرس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چھوٹی سی وارننگ ہے، اللّٰہ تعالیٰ کے اس عذاب کے سامنے انسان کے بنائے ہوئے ایٹم بم اور مزائل جن سے تمام دنیا ڈرتی ہے سب اس کے سامنے بے بس ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کورونا نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی ہتھیار کے بغیر بھی دنیا ختم کی جا سکتی ہے۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اور چیزوں کے ساتھ ساتھ سب سے ضروری ہے کے ہم اللّٰہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور تمام مکاتب فکر کو اس معاملے میں یکجا ہونا چاہیے، اس وقت لوگوں کو شعور کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ گروپ ایک بہت بڑا ادارہ ہے جو پاکستان میں اور باہر بھی لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کر سکتا ہے اس لیے میر شکیل الرحمٰن کو فوری طور پرضمانت پر رہا کر دینا چاہیے، اس مشن میں انہیں ساتھ ملانا چاہیے کیوں کے ان کے والد قائداعظم کے دور سے لے کر آج تک پاکستان کے خیر خواہ رہے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ صحافت میں ان کا بہت بڑا نام تھا اس لیے ابھی ہمیں پلاٹوں شلاٹوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا خاص طور پر مسلمانوں سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ راہ راست پر آجائیں اور بھول جائیں کہ کسی سپر پاور کا کوئی ایٹم بم یا مزائل انہیں کورونا سے بچا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…