پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پی ایم ڈی سی کے ملازمین کے پاس گھر چلانے کے پیسے نہیں ہیں، وہ ادھار مانگنے پر آ گئے ہیں، عدالت سے نکلتے ہوئے ملازمین کی ایسی حرکت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ برہم ہو گئے

datetime 12  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ میں صدارتی آرڈیننسز کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ۔ منگل کو چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس فیاض احمد جندران کے سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے صدارتی آرڈیننسز سے متعلق چار عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،

چار میں سے تین معاونین نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا ہے۔عدالتی معاون مخدوم علی خان نے جواب جمع کرانے کے لئے وقت مانگ لیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دو ہفتوں کا وقت دے دیتے ہیں جواب آنے دیں۔ وکیل نے کہاکہ پی ایم ڈی سی کے ملازمین کے پاس گھر چلانے کے پیسے نہیں ہیں، وہ ادھار مانگنے پر آ گئے ہیں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ ملازمین سے زیادہ ان ڈاکٹرز کا مسئلہ ہے جو ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں، پی ایم ڈی سی ریگولیٹ کرتا ہے اور اس کو بیرون ممالک میں مانا جاتا تھا۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ پی ایم ڈی سی کا مسئلہ حل کریں۔ پی ایم ڈی سی ملازمین کا کمرہ عدالت سے نکلتے بات چیت کرنے پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ برہم ہوگئی اور کہاکہ بنچ کیسز کی سماعت کر رہا ہے اور یہ آپس میں باتیں کرتے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ان کو عدالت کا احترام نہیں ہے تو عدالت میں نہ آئیں۔وکیل ملازمین نے کہاکہ پی ایم ڈی سی ملازمین کی جانب سے میں معذرت کرتی ہوں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…