اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پراپرٹی 34سال قبل خریدی گئی تھی، نیب نجی پراپرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟ میر شکیل الرحمان کوجھوٹے، من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا، ترجمان کا دعویٰ

datetime 12  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) جنگ گروپ کے ترجمان نے نیب کی جانب سے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کو حراست میں لینے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہاہے کہ یہ پراپرٹی 34سال قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کر دیئے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔جمعرات کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے 34 برس قبل مبینہ طور پر حکومتی عہدے دار سے

غیرقانونی طور پر جائیداد خریدنے کے کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کوحراست میں لینے کے حوالے سے ترجمان جنگ گروپ نے کہاکہ یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردئیے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔ترجمان نے کہا کہ میر شکیل الرحمان نے یہ پراپرٹی پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی، میر شکیل الرحمان اس کیس کے سلسلے میں دو بار خود نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے، دوسری پیشی پر میر شکیل الرحمان کو جواب دینے کے باوجود گرفتار کر لیا گیا، نیب نجی پراپرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسے گرفتار کر سکتا ہے؟ میر شکیل الرحمان کوجھوٹے، من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا، قانونی طریقے سے سب بے نقاب کریں گے۔ترجمان کے مطابق گزشتہ 18 ماہ میں نیب نے ہمارے رپورٹرز، پروڈیوسرز اور ایڈیٹرز کو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر درجنوں دھمکی آمیز نوٹسز بھیجے اور دھمکی دی کہ ہمارے چینلز کو (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پیمرا کے ذریعے) بند کرادیا جائیگا کیونکہ ہمارے چینل پر نیب کے حوالے سے خبریں اور پروگرامز چلائے جارہے ہیں،اپنے دفاع میں نیب نے تحریری طور پر یہ کہا کہ ادارے کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور اس پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔ترجمان نے کہا کہ نیب نے دیگر ذرائع سے بھی ہمیں سچ بتانے کے بجائے اپنی رفتار کم کرنے، خبریں نہ چلانے اور اْن کے حق میں کام کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

ترجمان کے مطابق ہم اپنے رپورٹرز، پروڈیوسرز اور اینکرز کو کسی بھی ایسی خبر کو نشر کرنے سے نہیں روکیں گے جو کہ میرٹ پر اترتی ہو اور ساتھ ہی ہم اس میں نیب کا مؤقف بھی شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ترجمان کے مطابق اس حوالے سے نیب نے مذکورہ تمام الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تمام کیسز کو آزادانہ طور پر لے کر چلتا ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے کسی خاص کیس کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…