پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

’’بی بی اس طرح کا اینگل بنائو، اس طرح کا پوز دو ‘‘ آپ کو گھر میں نہیں بلکہ ہراساں کرنے کیلئے منڈی میں اتارا گیا ہے ، اس عورت کے گرد کتنے سو کھرب کی انڈسٹری گھومتی ہے ؟ اوریامقبول جان کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 9  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے ایک نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میں گزشتہ دو سال سے جتنے بھی عورت مارچ دیکھ رہا ہوں جتنے نعرے دیکھ رہا ہوں وہ سرکل رائونڈ کرتا ہے صرف ایک جسم کے اوپر ۔ اس کےاندر نہ یہ اس حق کا کوئی مطالبہ ہے کہ عورت کو جائیداد کے اندر کوئی حصہ ملنا چاہیے اس کے اندر نہ یہ حق مانگا گیا ہے کہ اس کو خاندان کے اندر ایک

جیسا پیار ملنا چاہیے ، آپ سارے کے سارے نعرے اٹھا لیں ، سینیٹر ی پیڈ لگا کر آج کے نعروں پر اس عزت و تکریم مانگی جارہی ہے اس سے زیادہ شرمناک بات کیا ہو گی ۔سینئر کالم نگار کا کہنا تھا کہ آپ کا حق کیا ہے آپ کا بدن ہی آپ کیلئے امپورٹڈ ہے اس کے علاوہ آپ کا کوئی حق نہیں ، آپ پچھلے سال اور آج کے نعرے اٹھا کر دیکھ لیںکہ کہاں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں یہ قانون لے کر آئو کہ اسلام کہتا ہے کہ عورت کو جائیداد میں حق دو تو حق دو ۔ کہاں کہا گیا ہے کہ ایک عورت کو یکساں نصاب تعلیم کا حق دو ۔ ان کا کہنا تھا کہ عورت مارچ میں زیادہ تر ایسے نعرے ملتے ہیں ، مجھےاس طرح مت دیکھو ، مجھے اس طرح مت دیکھو ، مجھے اس طرح رکھو ، میرا جسم یہ ہے وہ ہے ۔ یہاں بنیادی مسئلہ یہ ہے یہاں دو مختلف سوچیں آگئیں ہیں ۔ ایک سوچ یہ کہتی ہے کہ ہم نے انسٹیویشن آف فیملی تباہ و برباد کرنی ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ نہیں انسٹیویشن آف فیملی باقی رہنا چاہیے۔اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ 1920ء میںپہلی دفعہ عورت کو فلیپر پہنا کر ہاتھ میں سیگریٹ پکڑایا گیا تو یہ کس نے دیا اس پورے کے پورے ویسٹرن ورلڈ نے تھمایا ہے ، عورت کے پائوں کے ناخن سے لے کر اس کے بالوں تک کوئی ایسی جگہ نہیں جسے انہوں نے کمرشلز نہ کیا ہو۔ 170ارب ڈالر کی انڈسٹری گھومتی ہے اس عورت کے اردگرد، ایک سو بیس ارب کی فیشن انڈسٹری اس عورت کے اردگرد گھومتی ہے ۔

181ارب ڈالر کی پورنو انڈسٹری گھومتی ہے اس کے ارد گرد ۔ یہاں تو کوئی احتجاج کرتا نظر نہیں آتا ۔ تباہ و برباد کر دیا پوری دنیا کو انہوں نے یہاں کسی نے کہا کہ فلمیں روکو ۔ کسی نے کہا فیشن انڈسٹری روکو ۔ ان کا کہنا تھاکہ جب عورت ریمپ واک پر چل رہی ہوتی ہے کس غلیظ طریقے سے یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیںیہ سارے وہیں بیٹھے ہوتے ہیں وہاں کوئی مولوی نہیں بیٹھا ہوتا ۔ میں اگر ان مردوں کی گفتگو سنا دوں

تو لوگوں کو شرم آنےلگے گی ۔ اس معاشرے نے عورت کو ریمپ پر کھڑا کیا جس نے اس عورت کو گندی نظروں کے سامنے چھوڑنے دیا ہے ۔ کیمرہ مین سے لے کر اوپر تک آپ ان لوگوں کی گفتگو سن لیں تو آپ کا سر شرم سے جھک جائے گا ۔ پھر آپ کہتے ہیں چار لوگ جو گھر میں بیٹھے ہوتے ہیں وہ آپ کا حق روکتے ہیں ، وہ تمہیں ہراساں کرتے ہیں ۔ آپ ہراساں کرنےکیلئے منڈی میں اتارا گیا ہے اور وہ منڈی کس کی ہے ؟کارپوریٹ کلچر کی منڈی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…