منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ایک اور یو ٹرن ، بی آر ٹی منصوبے کے افتتاح بارے ڈیڈ لائن ایک بار پھر تبدیل

datetime 1  مارچ‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی) خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن ایک بار پھر تبدیل کر دی۔ایک تقریب کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات کے پی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے سے متعلق حکومت پر خوب تنقید کی گئی تاہم مخالفین کو معلوم ہی نہیں کہ

بی آر ٹی منصوبہ رواں سال اپریل میں عوام کے لیے کھول دیا جائیگا۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی حکومت بی آر ٹی منصوبے کے افتتاح کے حوالے سے کئی بار تاریخ دے چکی ہے تاہم تاحال حکومت بی آر ٹی منصوبے کو عوام کے لیے کھولنے میں ناکام رہی ہے۔حکومت نے بی آر ٹی منصوبے کو 49 ارب روپے کی لاگت سے 6 ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم 80 ارب سے زائد رقم خرچ ہونے کے بعد ڈھائی سال سے زائد عرصے میں بھی اس منصوبہ کا افتتاح نہیں کیا جا سکا۔بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاہم حکومتی درخواست پر سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات روکنے کا حکم جاری کیا۔پشاور ہائی کورٹ نے بی آر ٹی منصوبے کے بارے میں دائر پیٹیشن پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں ایف آئی اے سے کہا گیا کہ وہ 45 روز میں اس منصوبے کی انکوائری مکمل کرے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے منصوبہ مکمل کرنے کی یہ نویں ڈیڈ لائن دی گئی اس سے قبل جنوری میں منصوبہ مکمل کرنے کی آٹھویں ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…