منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

 تمام اکابرین نے متفقہ آئین دیا جسے سول ملٹری بیوروکریسی نے نہیں مانا، خدا کاواسطہ ہے اب یہ کام بند کردیں، پیپلز پارٹی نے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 1  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کو عزت دو کا نعرہ سب سے بڑا مطالبہ ہے،اگر اس عہدہ نامہ کی پاسداری نہیں ہوگی تو وفاق نہیں رہ سکتا،آج آئین پر من و عن عمل نہیں ہورہا جس سے وفاق کو خطرہ ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر نے تحفظ آئین پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج سب آئین کی پاسداری کے کئے اکھٹے ہوئے ہیں،

اگر آئین کو کسی سے خطرہ ہوا تو ہمیں حوصلہ ہوگا کہ ہم سب اکٹھے ہیں،آئین پاکستان کو عزت دو کا نعرہ سب سے بڑا مطالبہ ہے،آئین کو اس لئے عزت دو کیونکہ آئین وفاق کے درمیان کے سمجھوتہ عہدہ نامہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس عہدہ نامہ کی پاسداری نہیں ہوگی تو وفاق نہیں رہ سکتا۔ انہوںنے کہاکہ آج آئین پر من و عن عمل نہیں ہورہا جس سے وفاق کو خطرہ ہے،بنیادی وجہ ملک میں 72 سالوں سے وردی والا محب وطن اور وسکٹ اور دھاڑی والا غیر محب وطن ہے۔ انہوںنے کہاکہ فاطمہ جناح کے خلاف غدرای کا مقدمہ چلا آج مولانا کے خلاف غدرای کا مقدمہ بنایا جارہا ہے،جس سے آئین توڑا وہ محب وطن ٹھہرے ۔ انہوںنے کہاکہ مشرف جس کو عدالت نے غدار ٹھہرایا اسکی تصویر آج بھی آرمی میس میں آویزاں ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کی پاسداری نہ ہونے کہ وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔ انہوںنے کہاکہ ون یونٹ اس لئے بنایا تھا کہ مشرقی پاکستان کی اعدادی اکثریت کو ختم کیا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ آج پاکستان کو بچانا ہے تو اس آئین کی حفاظت کرنا ہوگی،پاکستان اشرفیہ نے آئین کو دل سے نہیں مانا۔ انہوںنے کہاکہ 1973 تک کوئی آئین نہ تھا فوجی آمروں نے جو آئین دیا وہ ساتھ لے گئے۔ انہوںنے کہاکہ تمام اکابرین نے متفقہ آئین دیا جسے سول ملٹری بیوروکریسی نے نہیں مانا۔ انہوںنے کہاکہ آئین پابند کرتا جسے سول ملٹری بیوروکریسی نے نہیں تسلیم کیا،18 ویں ترمیم کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے لئے صدارتی نظام کی باتیں کروائی جارہی ہیں،18 ویں ترمیم سے قبل فوج کے شب خون کو تحفظ عدلیہ فراہم کرتی تھی ۔

انہوں نے کہاکہ 18 ویں ترمیم نے 58 ٹو بی کا خاتمہ کیا ،آئین کی تشریح عدالتوں نے ایسی کی کہ 2 وزرائے اعظم گھر بھجوا دیئے گئے۔ انہوںنے کہاکہ مولانا فضل الرحمن سے گزارش ہے کہ آئین کا تحفظ کسی ایک سیاسی جماعت کی ذمہ دای نہیں یہ قومی مسئلہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ مولانا فضل الرحمن اس مسئلہ کو وسیع البنیاد بنا دیں،این جی آوز کو بلائیں، خواتین کو مدعو کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو اس کاز میں شامل کریں چند سیاسی جماعتیں یہ مقصد حاصل نہیں کرسکتیں ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کی پامالی کرے والوں سے کہتا ہوں خدا کاواسطہ ہے اب یہ کام بند کردیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…