اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

 تمام اکابرین نے متفقہ آئین دیا جسے سول ملٹری بیوروکریسی نے نہیں مانا، خدا کاواسطہ ہے اب یہ کام بند کردیں، پیپلز پارٹی نے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 1  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کو عزت دو کا نعرہ سب سے بڑا مطالبہ ہے،اگر اس عہدہ نامہ کی پاسداری نہیں ہوگی تو وفاق نہیں رہ سکتا،آج آئین پر من و عن عمل نہیں ہورہا جس سے وفاق کو خطرہ ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر نے تحفظ آئین پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج سب آئین کی پاسداری کے کئے اکھٹے ہوئے ہیں،

اگر آئین کو کسی سے خطرہ ہوا تو ہمیں حوصلہ ہوگا کہ ہم سب اکٹھے ہیں،آئین پاکستان کو عزت دو کا نعرہ سب سے بڑا مطالبہ ہے،آئین کو اس لئے عزت دو کیونکہ آئین وفاق کے درمیان کے سمجھوتہ عہدہ نامہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس عہدہ نامہ کی پاسداری نہیں ہوگی تو وفاق نہیں رہ سکتا۔ انہوںنے کہاکہ آج آئین پر من و عن عمل نہیں ہورہا جس سے وفاق کو خطرہ ہے،بنیادی وجہ ملک میں 72 سالوں سے وردی والا محب وطن اور وسکٹ اور دھاڑی والا غیر محب وطن ہے۔ انہوںنے کہاکہ فاطمہ جناح کے خلاف غدرای کا مقدمہ چلا آج مولانا کے خلاف غدرای کا مقدمہ بنایا جارہا ہے،جس سے آئین توڑا وہ محب وطن ٹھہرے ۔ انہوںنے کہاکہ مشرف جس کو عدالت نے غدار ٹھہرایا اسکی تصویر آج بھی آرمی میس میں آویزاں ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کی پاسداری نہ ہونے کہ وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔ انہوںنے کہاکہ ون یونٹ اس لئے بنایا تھا کہ مشرقی پاکستان کی اعدادی اکثریت کو ختم کیا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ آج پاکستان کو بچانا ہے تو اس آئین کی حفاظت کرنا ہوگی،پاکستان اشرفیہ نے آئین کو دل سے نہیں مانا۔ انہوںنے کہاکہ 1973 تک کوئی آئین نہ تھا فوجی آمروں نے جو آئین دیا وہ ساتھ لے گئے۔ انہوںنے کہاکہ تمام اکابرین نے متفقہ آئین دیا جسے سول ملٹری بیوروکریسی نے نہیں مانا۔ انہوںنے کہاکہ آئین پابند کرتا جسے سول ملٹری بیوروکریسی نے نہیں تسلیم کیا،18 ویں ترمیم کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے لئے صدارتی نظام کی باتیں کروائی جارہی ہیں،18 ویں ترمیم سے قبل فوج کے شب خون کو تحفظ عدلیہ فراہم کرتی تھی ۔

انہوں نے کہاکہ 18 ویں ترمیم نے 58 ٹو بی کا خاتمہ کیا ،آئین کی تشریح عدالتوں نے ایسی کی کہ 2 وزرائے اعظم گھر بھجوا دیئے گئے۔ انہوںنے کہاکہ مولانا فضل الرحمن سے گزارش ہے کہ آئین کا تحفظ کسی ایک سیاسی جماعت کی ذمہ دای نہیں یہ قومی مسئلہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ مولانا فضل الرحمن اس مسئلہ کو وسیع البنیاد بنا دیں،این جی آوز کو بلائیں، خواتین کو مدعو کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو اس کاز میں شامل کریں چند سیاسی جماعتیں یہ مقصد حاصل نہیں کرسکتیں ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کی پامالی کرے والوں سے کہتا ہوں خدا کاواسطہ ہے اب یہ کام بند کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…