منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسیں سکریپ کے بھاؤ فروخت، ایک بس کی قیمت کروڑسے زائد لیکن قیمت فروخت حیرت انگیز، دھماکہ خیز انکشاف

datetime 29  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسوں کو سکریپ کے بھاؤ فروخت کر دیا گیا، ایک کروڑ سے زائد مالیت کی بس کو 7سے 8لاکھ روپے میں مصری شاہ لوہا مارکیٹ کے بیوپاریوں کو فروخت کیا گیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایل ٹی سی سے خرید کر مصری شاہ میں لائی جانے والی بسیں دیکھنے میں بالکل درست حالت میں نظر آرہی ہیں جنہیں اب کاٹنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بسیں درست حالت میں ہیں جن کی تزئین و آرائش کر کے انہیں دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔ بسیں خریدنے والے مصری شاہ لوہار مارکیٹ کے بیوپاری نے بتایا کہ یہ بسیں چلا کر یہاں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے البیراک کمپنی کا کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد یہ بسیں ناکارہ کھڑی تھیں اور جگہ نہ ہونے کے باعث انہیں فروخت کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ایک بس کی قیمت ایک کروڑ روپے سے زائد ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق یہ بسیں 7سے8لاکھ روپے میں فی بس فروخت کی گئی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسیں سکریپ میں فروخت کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کروڑ سے زائد مالیت کی بس 7لاکھ میں فروخت کی جارہی ہے،پنجاب حکومت نے ایک سال میں 200کے قریب قیمتی بسیں سکریپ میں فروخت کردی ہیں۔ پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہبازشریف حکومت نے شہریوں کو سستی اور آرام دہ سفری سہولت کیلئے جدید بسیں بیرون ملک سے منگوائی تھیں،سابقہ دور میں لاہور کے 29روٹس پر ایل ٹی سی کی بسیں شہریوں کو سستی اور معیاری سفری سہولت فراہم کررہی تھیں،پنجاب حکومت نے دو ماہ قبل لاہور کے 29روٹس اچانک بند کردئیے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ایل ٹی سی کی بسیں وفاقی وزیر حماد اظہر کی سٹیل مل کو سکریپ کے ریٹ پر فروخت کی جارہی ہیں،چیئرمین نیب ایک کروڑ سے زائد مالیت کی بس 7لاکھ میں فروخت کرنے کا نوٹس لیں۔ا نہوں نے کہا کہ وزیر اعلی عثمان بزدار،وفاقی وزیر حماد اظہر اور صوبائی وزیر ٹرانسپوٹ جہازیب کھچی کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…