منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اگر کسی نے خاتون سے پیسے مانگے تو سب کو عدالت بلا لیں گے، کینسر میں مبتلا خاتون کا علاج سرکاری خرچ پر کرنے کا حکم، انتہائی احسن اقدام

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) گٹکا، مین پوری اور ماوا کی فروخت کے خلاف صنوبر خاتون کی درخواست کی سماعت، عدالت نے کینسر میں مبتلا خاتون کا سرکاری خرچ پر علاج کرنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے گٹکے کے باعث کینسر کا شکار ہونے والی صنوبر خاتوں کی درخواست کی سماعت کی عدالت نے گٹکا کھانے اور فروخت پر پابندی کے لیے قانون سازی پر عملدرآمد سے متعلق عدالت سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا،

عدالت کا کہنا تھا کہ فریقین 10 مارچ کو وضاحت کریں، عدالت نے کینسر میں مبتلا خاتون کا سرکاری خرچ پر علاج کرنے کا حکم دیا عدالت کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کینسر میں مبتلا خاتون کے علاج کے مکمل اخراجات برداشت کرے،اگر کسی نے خاتون سے پیسے مانگے تو سب کو عدالت بلا لیں گے، عدالت کا زکوا فنڈ سے خاتون کو ماہوار رقم جاری کرنے کا حکم بھی دیا عدالت کا کہنا تھا کہ کینسر میں مبتلا خاتون کو سندھ حکومت ماہوار پیسے دے تاکہ یہ اپنی زندگی عزت سے گزار سکے،عدالت نے کاٹی کو فیکٹریوں میں گٹکے کی پابندی یقینی بنانے کا حکم بھی دیا،دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ گٹکا کھانے سے خطرناک کینسر پھیل رہا ہے، درخواست گزار خاتون کی تصاویر بھی نہیں دیکھ سکتے،فیکٹری اور تاجر برادری اپنے ملازمین کو اس خطرناک چیز سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کررہی ہیں؟ کاٹی کے جنرل سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ گٹکا اور ماوا کے فروخت پر پابندی کے لیے تمام فیکٹریوں کو سرکلر جاری کردیا ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس گٹکا بنانے والوں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کررہے؟قانون سازی کے باوجود اقدامات کیوں نہیں ہورہے؟پولیس کا کہنا تھا کہ گٹکا بنانے والے کافی ہوشیار ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لییجگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں، درخواست گزار خاتوں کا کہنا تھا کہ چار سال سے فیکٹری میں مزوری کرتی ہوں،گٹکاکھانے سے منہ کینسر ہوا، اب زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں،سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے پابندی کے باوجود کراچی کے مختلف علاقوں میں رجنی گٹکا، ماوا دیگر صحت کے لیے خطرناک اشیا فروخت ہورہی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…