منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

’خدا کا خوف کریں‘، فخرِ عالم کی ماسک ذخیرہ کرنیوالوں سے التجا

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی اداکار و گلوکار فخرِ عالم نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے استعمال کیے جانے والے ماسک ذخیرہ اندوز کرنے والوں اور منافع خوروں سے التجا کی ہے۔پاکستان میں جیسے ہی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تو کراچی سمیت دیگر شہروں کے میڈیکل اسٹورز سے ماسک غائب ہوگئے اور ان کی قیمتوں میں

غیر معمولی اضافہ بھی کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر متعدد لوگوں کی جانب سے ویڈیوز شیئر کی گئیں کہ شہریوں کو عام ماسک کا ڈبہ جو کہ 300 یا 400 کا باآسانی مل جاتا تھا لیکن اب وہ ہزاروں میں مل رہا ہے جب کہ متعدد میڈیکل اسٹورز میں ماسک میسر ہی نہیں۔اسی حوالے سے فخرِ عالم کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا گیا۔فخرِ عالم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’اس وقت کورونا وائرس کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں، پوری دنیا کی طرح ہمیں بھی اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہمیں بھی احتیاط اور خیال رکھا ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ ’اس صورتحال میں ہمیں پریشانی سے گریز کرنا ہوگا لیکن ساتھ میں وہ تمام لوگ جو ماسک کا کاروبار کر رہے ہیں جو ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں، جنہوں نے قیمتیں بڑھا دی ہیں، مجھے بے حد دکھ ہورہا ہے، آپ لوگ کیا سوچتے ہیں‘۔فخرِ عالم نے کہا کہ ’آپ لوگ جو قیمتیں بڑھا رہے ہیں یا ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں تو آپ لوگوں کو اس چیز سے محروم کر رہے ہیں جس سے اس بیماری کو روکا جاسکتا ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ تھوڑا سا منافع کما کر آپ اپنے گھر والوں کو، بچوں کو کھلا پلا سکیں گے یا کوئی نئی چیز خرید کر دے دیں گے اور پورے شہر میں بیماری پھیل جائے، اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے‘۔فخرِ عالم نے مزید کہا کہ ’یہ بیماری آپ کے گھر پر بھی دستک دے سکتی ہے، خدا نا خواستہ آپ کے بچوں تک پہنچ سکتی ہے، اس وقت تو آپ کی طرف سے لوگوں کو ماسک بانٹنے چاہئیں، ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے بجائے آپ ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں‘۔اداکار نے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کہا کہ آُپ اپنی آخرت کے بارے میں ہی سوچ لیں، آپ پروردگار کو کیا بولیں گے کہ میں نے قیمتیں بڑھا دیں تاکہ میں اپنے گھر والوں کا خیال رکھ سکوں، آپ لوگ خدا کا خوف کریں‘۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…