منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

لاہورہائیکورٹ کا بڑ افیصلہ ،ملازمت کرنے والے سابق ملازمین کے اہلخانہ اور بچے فل پنشن کے حقدار قرار

datetime 27  فروری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے ملازمت کرنے والے سابق ملازمین کے اہل خانہ اور بچوں کو فل پنشن کا حقدار قرار دیدیا۔لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس عاصم حفیظ پر مشتمل بنچ نے 13صفات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیاجس میں صوبائی سیکرٹری خزانہ اور اکائونٹنٹ جنرل پنجاب کی اپیلیں مسترد کر تے ہوئے سنگل بنچ کے 15فروری 2019 کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

سنگل بنچ نے پروفیسر ایس اے رشید کی بیوہ کنول رشید کو فل پنشن کا حقدار ٹھہرایا تھا،اگر کوئی مرد یا خاتون دوران سروس وفات یا ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہو جائے تو اس کے اہل خانہ فل پنشن کے حق دار ہیں، اگر اہل خانہ میں سے کوئی ملازمت بھی کرتا ہے تو بھی وہ قانون کے تحت پنشن کا حقدار ہے، حکومت یا حکومتی اداروں کو اس کی پنشن روکنے یا کٹوتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کسی مرد کی دوران وفات یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں اس کی بیوی فل پنشن کی حقدار ہو گی، خاتون ملازمہ دوران وفات یا ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا شوہر فل پنشن کا حقدار ہو گا۔سابق ملازمت کرنے والے کی بیوہ کے وفات کی صورت میں ان کے بچے اس پنشن کے حق دار ہوں گے،وزرات خزانہ یا اکائونٹنٹ جنرل پنجاب کو سرکاری خزانے پر کسٹوڈین بن کر من مانے فیصلے کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سیکرٹری خزانہ اور اکائونٹنٹ جنرل پنجاب آفس کو خود ساختہ کسی کی پنشن بند کرنے یا کٹوتی کا قانونی اختیار نہیں ۔ عدالت پروفیسر ایس اے رشید کی بیوہ کی پنشن بند کرنے اور وصول کردہ پنشن سے کٹوتی کے حکومتی اقدام کو کالعدم قرار دیتی ہے،ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کافیصلے قانونی اور درست ہے۔

عدالت اپنے فیصلے کے ذریعے بیوہ کو فوری فل پنشن ریلیز کرنے کا حکم دیتی ہے۔ پنجاب حکومت کی اپیل میں موقف اپنایا گیا اکائونٹنٹ جنرل پنجاب سرکاری خزانے کے کسٹوڈین ہیں، قانون کے تحت وہ کسی پینشنر کی پینشن روک سکتے یا کٹوتی کر سکتے ہیں، ،پروفیسر کی بیوہ نے دوہری پنشن وصول کی جس پر 2016 میں اس کو شوہر مرحوم کی دی گئی پنشن روک دی گئی۔قانون کے تحت پنشن سے کٹوتی کا حکم دیا گیا، سنگل بنچ نے حقائق کے برعکس بیوہ کی پنشن بحال کرنے کا حکم دیا،استدعا ہے کہ سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…