نئی گندم مارکیٹ میں آ گئی لیکن خریداری مراکز قائم نہ ہو سکے، حکومتی نااہلی کی وجہ سے پرائیویٹ مارکیٹ میں فروخت ہونے کا اندیشہ

  جمعہ‬‮ 21 فروری‬‮ 2020  |  22:30

پنگریو/ سکھر(این این آئی) زیریں سندھ کے علاقوں پنگریو،جھڈو،شادی لارج،نندو،کھوسکی،ٹنڈوباگومیں گندم کی فصل کی کٹائی شروع ہوگئی ہے اورنئی گندم مارکیٹ میں آگئی ہے تاہم محکمہ خوراک خریداری پالیسی بنانے میں تاحال ناکام ہے جس کی وجہ سے نئی گندم بھی مافیا کے ہاتھوں ذخیرہ ہونے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ کاشت کارتنظیموں کے مطابق محکمہ زراعت سندھ کی نااہلی کے باعث گزشتہ سال بھی گندم کی سرکاری خریداری نہیں ہوسکی تھی اور امسال بھی گندم کی زیادہ مقدار پرائیویٹ مارکیٹ میں فروخت ہونے کا اندیشہ ہے۔ سکھر سے نمائندے کے مطابق سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے صدر سید میراں محمد شاہ


نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت کو مزید مضبوط کرنے کیلئے ہمیں زراعت کو مستحکم اور مضبوط بنانا ہوگاکیونکہ ملک کی پہلی سیکیورٹی زراعت ہے، ملک خوشحال ہوگا تو عوام خوشحال ہونگے،اس وقت ملک میں آٹے اور چینی کا کوئی بحران نہیں اور اگر کہیں ہے تو وہ مصنوعی ہے، حکومت وقت کو پاکستان کی زرعی پیداوار بڑھانے سمیت اس سے منسلک لوگوں کو ریلیف فراہمی کیلئے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان زراعت سکھر ڈویژن کے زیر انتظام اور ٹڈاپ سب ریجن سکھر کے تعاون سے زراعت کے حوالے سے آگاہی اور آبادگاروں کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کے سلسلے میں منعقد کنونشن سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں کیا، کنونشن میں ایوان زراعت سکھر ڈویژن کی جانب سے مہمان گرامی کو سندھ کا روایتی تحفہ اجرک اور ٹوپی پیش کیا گیا۔


موضوعات: