وزیراعظم عمران خان کو بغاوت کا خوف ، قریبی ساتھی ان کیساتھ کونسی گیم کھیل رہے ہیں ؟ پاکستانی معروف شخصیت کے تہلکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 19 فروری‬‮ 2020  |  22:39

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کو ساتھیوں کی بغاوت کا خوف ، شدید پریشان ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ان کے قریبی دوستوں کی رپورٹ دی گئی جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ ان کے کچھقریبی ساتھی ان کیساتھ ڈبل گیم کھیل رہے ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ


میں نے عمرہ کے دوران مقامِ ابراہیم کے سامنے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے گھر دوبارہ آنے کا موقع دیا۔وہ تین ماہ تک جرمنی میں زیر علاج رہے اور ایک ماہ آئی سی یو میں رہے لوگوں نے ان کی بیماری کے متعلق بہت سی افواہیں پھیلائیں، لوگ بڑی تعداد میں دور دراز علاقوں سے ان سے ملنے آتے تھے، 80 فیصد لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت بھی نہیں تھی اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں وہ جانتے تک نہیں تھے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ملک کے باہر مجھے احساس ہوا کہ لوگ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور ان لوگوں کی دعائوں سے مجھے مشکل وقت سے نکالا اور صحت یاب کیا، میںنے حرم پاک میں پاکستان کی سالمیت اور ان لوگوں کیلئے دعا کی جنہوں نے ان سے دعا کا کہا تھا، اللہ تعالیٰ ان کی نیک خواہشات کو پورا کرے، میں نے حرم پاک میں عمران خان کے لئے بھی دعا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے عمرہ روانگی سے قبل بھی ایک سوال پر کہا تھا کہ میں عمران خان کیلئے دعا کروں گا اور واپس آ کر انہیں مشورہ بھی دوں گا۔انہوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے عمران خان کی نیک نیتی کی وجہ سے آج انہیںاس منصب تک پہنچایا ہے لیکن وہ سیاسی ہیرا پھیری نہیں سیکھے، بعض لوگ کسی کے صحیح اور نیک مشورے کو بھی مخالفت کے زمرے میں پیش کر دیتے ہیں۔چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ جہاں تک عمران خان کو مشورہ دینے کی بات ہے تو میں انہیں ذاتی طور پر مشورہ دینا چاہوں گا کہ اگر آپ تین باتوں پر عمل پیرا ہوں تو اللہ تعالیٰ آپ کیلئے مزید آسانیاں پیدا کرے گا۔انہوں نے عمران خان کومشورہ دیا کہوہ چاپلوسوں اور چغل خوروں سے دور رہیں اور اپنے اردگرد منافقین کی نشاندہی کریں اور انہیں اپنے نزدیک نہ آنے دیں، مزید یہ کہ اپنے اندر میں یعنی خودپسندی نہ آنے دیں۔انہوں نے ماضی میں بھی نوازشریف کو یہی مشورہ دیا تھا جبکہ نوازشریف نے اس کے برعکس کیا، اتفاق کی بات یہ ہے کہ اُس وقت نوازشریف کی چاپلوسی کرنے والے آج بھی اقتدار میں شامل ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے ایکاور سوال پر کہا کہ انہوں نے پرویز مشرف کو بھی مشورہ دیا تھا کہ طالبان کا لفظ مدرسے کے طالب علم سے جوڑ کر استعمال نہ کریں۔ایسے بیان دینے سے مدرسے کا ہر طالب علم آپ کو اپنا دشمن سمجھے گا، چھ ما ہ تک انہوں نے میری بات مان کر طالبان کی جگہ ایکسٹریمسٹ (Extremist) کا لفظ استعمال کیا بعد میں پھر طالبان کہنا شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ میں نیک نیتی کے ساتھ سب کو مشورہ دیتا ہوں کسی نے مان لیا کسی نے نہیں یہ اس کی مرضی، سب اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر صرف اور صرف ملک و قوم کی خاطر سوچیں گے تو کامیاب رہیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کارٹرفارمولا

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎