منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں ہونیوالی ہلاکتوں کے پیچھے وجہ کیا نکلی؟نیا پنڈورا باکس کھل گیا

datetime 19  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)معروف سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہاہے کہ ابھی بھی سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اموات سویا بین ڈسٹ سے ہوئیں ہیں جبکہ وفاقی وزیر برائے بحری امورعلی زیدی نے زہریلی گیس سے اموات کی وجہ سویا بین ذرات کو قرار دینے سے متعلق جامعہ کراچی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کو ماننے سے انکار کردیاہے۔

دریں اثناء جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہاہے کہ ہواکے ذریعے سویابین کے ذرات پھیلنے سے الرجی ہوئی اور دمہ کے مریضوں پر زیادہ اثر ہوا، جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرعطا الرحمن نے کہا کہ سویا بین میں کچھ الرجک کمپائونڈ ہوتے ہیں جو فضا میں پھیلتے ہیں، سویا بین کی ان لوڈنگ کے وقت احتیاط کی جاتی ہے تا کہ فضا میں ڈسٹ نہ پھیلے۔ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ سویا بین کے الرجک کمپائونڈ سے بچنے کے لیے احتیاط صرف یہ ہے کہ سویا بین کی ان لونڈگ کے لیے بین الااقوامی طریقہ اپنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ اتھارٹی کو ہر چیز کی ان لوڈنگ کے لیے احتیاط برتنی چا ہئیں۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے بحری امورعلی زیدی نے زہریلی گیس سے اموات کی وجہ سویا بین ذرات کو قرار دینے سے متعلق جامعہ کراچی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کومستردکردیاہے ۔علی زیدی نے کہا کہ سویا بین ذرات کی رپورٹ کو قطعی طور پر تسلیم نہیں کرتا۔علی زیدی نے کہاکہ گیس کے اخراج سے جہاز کا اپنا 30 رکنی کریو متاثر نہیں ہوا، جہاز آف لوڈ کرنے والے 400 افراد میں سے ایک بھی متاثر نہیں ہوا، سویا بین والے جہاز اور متاثرہ آبادی میں ایک کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کچھ دیر قبل بھی ایک اجلاس کی صدارت کی ہے، اجلاس میں طے ہوا جہاز کو فوری طور پر برتھ سے ہٹادیتے ہیں، جہاز کو کے پی ٹی سے ہٹا کر پورٹ قاسم منتقل کیا جائے گا۔علی زیدی نے کہا کہ اس سے پہلے 13 جہاز سویا بین لے کر کراچی پورٹ آچکے تھے یہ 14واں جہاز تھا، جب پہلا مریض آیا تو جہاز سے سویابین اتارنا شروع نہیں ہوا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی ہے۔

واقعے کا کے پی ٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔علی زیدی نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم سے بات کی اور دوائوں کا انتظام کیا، گیس کے اخراج سے جو اموات ہوئی ہیں اہل خانہ سے دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔دریں اثناء بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم جامعہ کراچی کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے بتایاکہ سویا بین کے ذرات ہوا کے رخ پر جاتے ہیں ، ہوا کے ذریعے سویا بین کے ذرات پھیلنے سے الرجی ہوئی اور دمہ کے مریضوں پر زیادہ اثرہوا، جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔

انہوں نے بتایاکہ ہائیڈروجن سلفائیڈگیس کی رپورٹ درست نہیں ، سویابین کے ذرات الرجک ہوتے ہیں ، جو ڈسٹ الرجی کا باعث بنتے ہیں، رپورٹ کمشنر کراچی کوبھجوادی گئی ہے ، جس میں ان لوڈنگ فوری رکوانے کی تجویز دی ہے۔پروفیسر اقبال چوہدری نے کہاکہ ابتدائی طورپرعبوری رپورٹ دی تاکہ واقعے کا علم ہوسکے، ہم نے جہازکی ان لوڈنگ فوری روکنے کی درخواست کی تھی۔انہوں نے کہاکہ سویابین کے جہازکی ان لوڈنگ میں دنیابھر میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، سویابین کے ذرات سے الرجی ہوئی اورری ایکشن ہواہے، متاثرین کوفوری اینٹی الرجی دوائیں دینے کی ضرورت ہے۔ہواکاکم دبائو بھی ری ایکشن کی بڑی وجہ بنا ہے، جہاز کی ان لوڈنگ ختم ہو تو پھر علاقے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…