نیوزی لینڈ کی مسجد کے طرز پر مساجد پر حملوں کا منصوبہ بے نقاب‎

  منگل‬‮ 18 فروری‬‮ 2020  |  23:23

برلن (این این آئی)جرمنی میں گزشتہ ہفتے گرفتار ہونے والے دائیں بازو کے سخت گیر گروپ کے اراکین سے تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ نیوزی لینڈ کی مسجد کے طرز پر جرمنی میں مساجد پر حملوں کا ‘چونکا’ دینے والا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جرمنی بھر میں پولیس کی کارروائی کے بعد گرفتار ہونے والے 12 افراد سے تفتیش کے بعد بڑے حملوں کیمنصوبہ بندی کے اشارے ملے ہیں جس کے حوالے سے میڈیا میں رپورٹس بھی آئی تھیں کہ گروپ کی جانب سے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کے


دوران نشانہ بنایا جائے گا۔جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان بائرن گرینیوالڈر نے برلن میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ جو انکشاف ہوا ہے وہ چونکا دینے والا ہے کہ یہاں کئی سیل بنے ہوئے تھے کہ مختصر وقت میں بنیاد پرستی پھیل جائے۔چانسلر اینجیلا مرکل کے ترجمان اسٹیفن سیبرٹ کا کہنا تھا کہ یہ ریاست اور حکومت کا کام ہے کہ ملک میں بغیر کسی مذہب کی تفریق کے آزاد مذہبی سرگرمیوں کو تحفظ دے۔ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں ہمارے قانون کے اندر رہتے ہوئے جو کوئی بھی مذہبی سرگرمی کرتا ہے اس کو کوئی دھمکی یا خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔‎میڈیا رپورٹس ک مطابق انتہا پسند گروپ نے منصوبہ بنایا تھا کہ گزشتہ برس مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں قتل کیے گئے 51 مسلمانوں کے طرز پر سیمی آٹومیٹک ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کاروں کو گروپ کے اندر موجود افراد سے منصوبے سے متعلق معلومات تھیں۔انتہا پسند گروپ کے مبینہ سربراہ کو حکام جانتے تھے اور اس کی ملاقاتوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی تھی اور گزشتہ ہفتے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اجلاس میں منصوبے پر تفصیلی بات کی تھی۔ایک جرمن اخبارکے مطابق گروپ کے سربراہ کی عمر 53 برس کے لگ بھگ ہے اور آگسبرگ سے تعلق ہے، تفتیش کاروں کے مطابق ان کا نام وارنر ایس ہے۔شمالی ریاست کے وزیر داخلہ ہربرٹ ریول کا کہنا تھا کہ گرفتار کئے گئے تمام مشتبہ 12افراد جرمنی کے شہری ہیں جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے جو اس سے قبل دائیں بازو کے سخت گیر گروپ سے تعلقات کے باعث معطل بھی ہوچکے تھے۔وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس نے دائیں بازو کے 50 انتہا پسندوں کوخطرناک قرار دیا ہے جو انفرادی طور پر خطرناک حملے کرسکتے ہیں۔جرمن حکام نے 2019 میں 30 سے زائد افراد کو نیونازی تحریک سے متاثرناردرن کراس سے تعلق پر گرفتار کیا تھا۔‎


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎