منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

درخواست گزار ضمانت کا حقدار نہیں،عدالت میں حیران کن انکشاف، حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کا تحریری فیصلہ

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا جو 8 صفحات پر مشتمل ہے۔تحریری فیصلہ بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے لکھوایا ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ حمزہ شہباز کے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ملزم کے باقی فیملی ممبران مفرور ہیں۔حمزہ شہباز ضمانت کا حقدار نہیں اس لئے اس کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے۔فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ حمزہ شہباز کے دوہزار تین میں اثاثے اکاون اعشاریہ پانچ سو سات ملین اور دوہزار اٹھارہ میں چار سو سترہ اعشاریہ چھتیس ملین تھے۔ دو رکنی بنچ نے ریمارکس دیئے کہ دو ہزار تیرہ سے سترہ تک بنک اکاؤنٹ میں اندرون و بیرون ملک سے رقم کی ترسیل ہوتی رہی۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ آیک سو اکاسی اعشاریہ چھ سو گیارہ ملین بیرون ملک سے حمزہ شہباز کے اکاونٹ میں منتقل ہوئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ گفٹ کی مد میں ایک سو آٹھ اعشاریہ ایک سو ترپن روہے کی ٹرازیکشن ہوئی اور بیرون ملک سے آنے اور بھیجے جانے والی رقم بارے کوئی بوت نہیں دیا گیا۔فیصلہ میں وعدہ معاف گواہوں کاتذکرہ بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ شاہد رفیق اور آفتاب محمود وعدہ معاف گواہوں بنے۔ شاہد رفیق نے حمزہ شہباز کیخلاف بیان دیا۔فیصلہ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مختلف بینکوں کے ذریعے ٹرازیکشن ہوئی۔حمزہ شہباز کے بھائی سلیمان شہباز نے اسے چنیوٹ میں ایک سو ترپن کینال سے زائد اراضی گفٹ دی اور گفٹ کی گئی اراضی کی ادائیگی جعلی زر مبادلہ کے ذریعے کی گئی۔فیصلہ میں کہا گیا ہے حمزہ شہباز کا جوڈیشل کالونی میں آٹھ کینال کا گھر ہے جو بظاہر بے نامی ظاہر ہورہا ہے۔فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن بارے انکوائری اب نویسٹی گیشن کے مرحلے پر پہنچ چکی ہے۔فیصلے میں کہاگیا کہ حمزہ شہباز کے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ملزم کے باقی فیملی ممبران مفرور ہیں۔درخواست گزار ضمانت کا حقدار نہیں اس لئے اس کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…