بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اگر افسران 10بجے تک دفتر نہیں آتے تو انہیں فارغ کر دیں، بہتر ہے گھر بیٹھیں، برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تہلکہ خیز اعلان

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

کراچی (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اچانک سندھ سیکریٹریٹ، تغلق ہاؤس پہنچ گئے۔ افسران کی حاضری چیک کی اور مختلف افسران کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 10 بجے تک اگر افسران نہیں آتے تو فارغ کریں۔وزیراعلی سندھ نے صبح سویرے سندھ سیکریٹریٹ میں قائم مختلف دفاتر کا دورہ کیا۔

محکمہ انڈسٹریز اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے دورے پر سیکریٹری آب پاشی کی غیر حاضری پر وزیر اعلی نے انہیں فون کیا اور کہا کہ آپ کا عملہ موجود نہیں ہے، اگر کام نہیں کر رہے تو فارغ کریں۔اپنے دورے کے موقع پر وزیر اعلی سندھ نے محکمہ داخلہ سندھ کیساتھ ساتھ وزیر ایکسائیز، سیکریٹری ایکسائیز کے دفاتر میں افسران اور عملے کی حاضری چیک کی اور غیر حاضری پر اظہار برہمی کیا۔وزیراعلی سیکریٹری لیبر کے دفتر بھی گئے تو عملے نے بتایا کہ سیکریٹری صاحب لاڑکانہ گئے ہوئے ہیں، جس کے کچھ دیر بعد سیکریٹری لیبر دفتر پہنچ گئے تو وزیر اعلی نے ان سے مکالمہ کیا کہ آپ تو لاڑکانہ تھے اتنی جلدی پہنچ گئے؟۔وزیر اعلی کے دورے کے موقع پر محکمہ بلدیات کے سیکریٹری روشن شیخ بھی دفتر میں موجود نہ تھے، جبکہ دفتر میں موجود عملہ غلط بیانی کرتا رہا کہ وہ چیف سیکریٹری کے اجلاس میں گئے ہیں۔اس پر وزیراعلی نے بتایا کہ چیف سیکریٹری کے ہاں کوئی اجلاس نہیں ہے، یہ عمل ناقابل برداشت ہے۔اس موقع پر مراد علی شاہ نے محکمہ بلدیات کے بائیو میٹرک روم کا بھی دورہ کیا جہاں کوئی انٹری کا ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ترجمان وزیر اعلی کے مطابق مراد علی شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ سے کام نہیں چلے گا، انہوں نے سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن کو بھی طلب کرلیا۔وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ غیر حاضری پر محکمہ منصوبہ بندی کے افسران، محکمہ تعلیم کے سیکریٹری کو نوٹس دیں،اگر یہ افسران نہیں آرہے تو بہتر ہے کہ گھر بیٹھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…