جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

’’ شریف برادران اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست مستقبل سامنے آگیا ‘‘ کچھ لوگ سائیکل پر آتے دکھائی دے رہے ہیں ،وزیراعظم عمران خان اور پاکستان کا مستقبل کیسا ہو گا ؟مرد درویش پیر پنجر سرکار نے پیش گوئی کر دی

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) مرد درویش پیر پنجر سرکار نے پیش گوئی کی ہے کہ شریف برادران اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست قصہ پارینہ بن چکی ہے ،کچھ علماء پجارو سے سائیکل پر آتے دکھائی دے رہے ہیں ،البتہ سیاسی قیدیوں کے لئے امام کی آسامی خالی ہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ وطن عزیز پاکستان کلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور کلمے کی بنیاد پر معروض وجود میں آنیوالی اسلامی سلطنت کا

سربراہ نہ غیر مسلم ہو سکتا ہے اور نہ ہی غیر مسلموں کا ایجنٹ ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ 4نومبر کو دھرنے کے دوران ہمارے ایک مذہبی رہنما نے موجودہ وزیراعظم کو غیرمسلموں کا ایجنٹ قرار دیا تھا اور اس میں حوالہ ایک روزنامے میں چھپنے والی خبر کا دیا ۔پیر پنجر سرکار نے کہا کہ ہم اس سے قبل بھی اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ ہمارا اس خبر سے کچھ لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہ چند شرپسند عناصر نے من گھڑت خبر ہمارے نام سے منسوب کرکے شائع کی ، اس جھوٹی خبر کی تردید خود اس روزنامے نے اپنے 19اگست2019ء کے شمارے میں کی تھی۔پیرپنجر سرکار نے کہا کہ جس خبر اور اخبار کا تذکرہ ہمارے مذہبی رہنما نے کیا وہ اخبار بھی وہی ہے اور سال بھی وہی ہے لیکن خبر یہ ہے کہ ہم نے کہا تھا کہ ’’ عمران خان کی صورت میں پاکستان کو تقدیر بدلنے والی قیادت میسر ہو گی اور وہ اپنی سیاسی پچ پر سنچری بناتے دکھائی دے رہے ہیں اور ہم ن ے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام آباد کا سیاسی تھیٹر عمران خان کے حوالے کردیا جائے گا اور وہ بڑی بے رحمی سے آپریشن کریں گے اس آپریشن کے دوران ان کے بہت سارے ساتھی ڈاکٹر ساتھ چھوڑ جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں نہ صرف اسلامی نظام رائج ہو گا بلکہ یہ ثانی مدینہ کی حیثیت اختیار کرجائیگا۔انہوںنے کہاکہ دوسروں کی حب الوطنی اور ان کی مسلمانیت پر فتوے دینے والوں کے بارے میں پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ وطن عزیز کے کچھ علماء پجارو سے اتر کر سائیکل پر آتے دکھائی دے رہے ہیں ۔شریف برادران اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست اب قصہ پارینہ بن چکی ہے ان کا اب ملک کی سیاست میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔انہوں نے کہاکہ سیاسی قیدیوں کے لئے امام کی آسامی البتہ خالی ہے اس کے لئے کوئی قابل سیاسی عالم درکار ہے جوان کو باجماعت نماز پڑھا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…