منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

غریب جائے بھاڑ میں، بھاری تنخواہ لینے والے اراکین پارلیمنٹ نے تنخواہوں اور مراعات میں 400 فیصد اضافہ مانگ لیا

datetime 1  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں مہنگائی پر ہر شخص پریشان ہے، جہاں تک ہر کوئی مہنگائی کا ہی رونا رو رہاہے، 15 ہزار تنخواہ لینے والا تو ہے ہی بہت پریشان، کیونکہ پندرہ ہزار میں گزارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے بھی کہہ رہے ہیں کہ ہماری تنخواہیں بہت کم ہیں اور گزارہ نہیں ہوتا۔ جن لوگوں نے مہنگائی کا سدباب سوچناہے وہ لوگ ہی مہنگائی کی وجہ سے اپنی تنخواہوں کو بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں۔

مہنگائی سے اراکین پارلیمنٹ بھی بہت پریشان ہیں۔ کئی ارکان پارلیمنٹ نے چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، سپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں چار سو فیصد اور تمام ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کے لئے قانون کا مسودہ سینٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے۔اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی سے صرف عام عوام ہی نہیں بلکہ چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی چیئرمین سینٹ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے تمام ارکان متاثر ہو رہے ہیں۔سینٹ سیکرٹریٹ نے مسودہ وزارت پارلیمانی امور اور وزارت خزانہ کو بھیج دیا ہے۔ چیئرمین اینڈ اسپیکر ایکٹ 1975 کے قانون میں ترمیم کی سفارش کی گئی تاکہ چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ کو ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر آٹھ لاکھ ستر ہزار روپے کیا جاسکے۔ یہ رقم سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے برابر ہے۔اس بل میں ڈپٹی چیئرمین اور ڈپٹی سپیکر ایکٹ 1975 میں بھی ترمیم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ ایک لاکھ 85 ہزار روپے سے بڑھا کر آٹھ لاکھ29ہزار روپے کی جا سکے، جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے مساوی بنتی ہے۔اس کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ ایکٹ 1974 میں ترمیم کی سفارش کی گئی تاکہ ارکان سینیٹ اور ارکان قومی اسمبلی کی موجودہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کی جائے۔

واضح رہے کہ سینٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے وزارت پارلیمانی امور کو 28 جنوری کو لکھے گئے ”ارجنٹ“ کے عنوان سے خط میں سینیٹر نصیب اللہ بازئی، سجاد حسین طوری، سردار محمد یعقوب خان نصر، دلاور خان، ڈاکٹر اشوک کمار اور شمیم آفریدی نے توجہ دلاؤ نوٹس میں بل پیش کرنے کی بات کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ تنخواہوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا اسلئے چیئرمین یا اسپیکر، ڈپٹی چیئرمین یا ڈپٹی اسپیکر اور ارکان اسمبلی اور ارکان سینیٹ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس خط میں کہا گیا ہے کہ تمام ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کے سفر الاؤنس میں اضافے کیلئے نظرثانی بھی کی جائے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…