منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کوچین سے کیوں نہیں نکالا جارہا؟مشیر صحت نے عوام کے سامنے کئی سوالوں کے جوابات رکھ دئیے

datetime 1  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چین میں پھیلنے والے ہلاکت خیز کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستانیوں کو واپس وطن نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا جارہا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے والے طلبہ کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ افراد کو کورونا وائرس کے شک کے باعث نگرانی میں رکھا گیا تھا تاہم ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا پاکستان کے پاس اس وائرس کی تشخیص کی صلاحیت موجود ہے تو میں بتادوں میڈیکل کٹس پہنچ جانے کے بعد ہم خود وائرس کی تشخیص کرسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ الیکٹرونک میڈیا پر کورونا وائرس سے بچاؤ، احتیاط اور دیگر حوالوں سے آگاہی دینے کے لیے مہم کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس دنیا کے 27 ممالک تک پھیل چکا ہے اور انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کو ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جس کے باعث پاکستان ذمہ داری کے ساتھ اپنے، اپنے عوام اور دنیا کے لوگوں کے لیے وہ اقدام کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا ڈبلیو ایچ او کی تجاویز اور چینی حکومت کی جانب سے اس وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ووہان نے واپس نہیں بلا رہے۔

معاون خصوصی نے کہا چینی حکومت بھرپور طریقے سے ایسے اقدامات کررہی ہے جس سے ان کے اپنے عوام، دوسرے ممالک کے افراد اور باقی دنیا کے لوگ اس وائرس سے بچ سکیں اور ہمیں ان پر پورا اعتماد ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کو کیوں نہیں نکالا جارہا ہے، جس پر میں ہی بتایا چاہتا ہوں کہ صرف 7-8 ممالک ہیں جنہوں نے اپنے لوگوں کا انخلا کیا یا اس کی درخواست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ووہان کے شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔لہٰذا ہم اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ پاکستانیوں کی بہتر دیکھ بھال ہورہی ہے اور وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اسلیے اب بھی پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…