بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کوچین سے کیوں نہیں نکالا جارہا؟مشیر صحت نے عوام کے سامنے کئی سوالوں کے جوابات رکھ دئیے

datetime 1  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چین میں پھیلنے والے ہلاکت خیز کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستانیوں کو واپس وطن نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا جارہا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے والے طلبہ کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ افراد کو کورونا وائرس کے شک کے باعث نگرانی میں رکھا گیا تھا تاہم ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا پاکستان کے پاس اس وائرس کی تشخیص کی صلاحیت موجود ہے تو میں بتادوں میڈیکل کٹس پہنچ جانے کے بعد ہم خود وائرس کی تشخیص کرسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ الیکٹرونک میڈیا پر کورونا وائرس سے بچاؤ، احتیاط اور دیگر حوالوں سے آگاہی دینے کے لیے مہم کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس دنیا کے 27 ممالک تک پھیل چکا ہے اور انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کو ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جس کے باعث پاکستان ذمہ داری کے ساتھ اپنے، اپنے عوام اور دنیا کے لوگوں کے لیے وہ اقدام کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا ڈبلیو ایچ او کی تجاویز اور چینی حکومت کی جانب سے اس وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ووہان نے واپس نہیں بلا رہے۔

معاون خصوصی نے کہا چینی حکومت بھرپور طریقے سے ایسے اقدامات کررہی ہے جس سے ان کے اپنے عوام، دوسرے ممالک کے افراد اور باقی دنیا کے لوگ اس وائرس سے بچ سکیں اور ہمیں ان پر پورا اعتماد ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کو کیوں نہیں نکالا جارہا ہے، جس پر میں ہی بتایا چاہتا ہوں کہ صرف 7-8 ممالک ہیں جنہوں نے اپنے لوگوں کا انخلا کیا یا اس کی درخواست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ووہان کے شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔لہٰذا ہم اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ پاکستانیوں کی بہتر دیکھ بھال ہورہی ہے اور وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اسلیے اب بھی پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…