جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اگر شہباز شریف سچے ہوتے تو اگلے ہی دن ڈیوڈ روز کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کرتے،فیاض الحسن چوہان نے شہباز شریف کو ڈرامے باز قرار دے دیا

datetime 30  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ آج دنیا کے سب سے بڑے ڈرامے باز وزیرِ اعلی شہباز شریف برطانوی جریدے ڈیلی روز کے رپورٹر ڈیوڈ روز کے خلاف کاروائی کے لیے درخواست دیتے وقت بھی عمران خان پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں، ڈیوڈ روز نے تو بہت عرصہ پہلے آپ کو زلزلہ زدگان کے لیے آنے والی امداد میں خرد برد کرنے پر کفن چور اور نواز شریف کو قزاق کہا تھا،

اگر شہباز شریف سچے ہوتے تو اگلے ہی دن ڈیوڈ روز کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کرتے، ابھی تو آپ نے صرف درخواست دی ہے، جب کیس کا فیصلہ ہو گا، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریف برادران پر چوہدری شوگر ملز، حدیبیہ پیپر ملز، غریب زلزلہ زدگان کی امدادی رقوم کھانے کے ساتھ ساتھ اربوں کھربوں کی لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں، ان الزامات کا غصہ عمران خان پر مت نکالیں۔ قبل ازیں وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے شہباز شریف اور سردار عثمان بزدار کے بطور وزیرِ اعلی ادوار میں چیف منسٹر سیکریٹریٹ کے اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف کے دور میں سی ایم سیکریٹریٹ میں 450 ملازمین اور دو سو کے قریب افسران تعینات تھے جبکہ سردار عثمان بزدار کے دور حکومت کے پہلے سال میں سی ایم سیکریٹریٹ میں 403 ملازمین اور 145 افسران ہیں۔2017-18 میں شہباز شریف کے دور میں انٹرٹینمنٹ اور تحائف کی مد میں 9 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ سردار عثمان بزدار کے دور حکومت کے پہلے سال میں تحائف اور مہمان نوازی کی مد میں 5 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ شہباز شریف کے بطور وزیرِ اعلی آخری سال میں پٹرول کی مد میں 3 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ عثمان بزدار پٹرول کا خرچ دو کروڑ دس لاکھ تک لے کر آئے۔

فیاض الحسن چوہان نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 4 کروڑ 24 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہ گزشتہ سال میں دو کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 2017-18 میں 6 کروڑ 64 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے اس کے برعکس وزیرِ اعلی سردار عثمان بزدار کے دور حکومت کے پہلے سال میں یہ خرچ صرف 19 لاکھ روپے رہا۔ شہباز شریف کے دور میں ڈائریکٹر لیول کے افسران کو منی لانڈرنگ میں استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے متعدد کیمپ آفسز کے برعکس سردار عثمان بزدار کا ایک بھی کیمپ آفس نہیں ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ سردار عثمان بزدار نے عمران خان کے ویژن کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں عوام کی خدمت کی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…