بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اگر شہباز شریف سچے ہوتے تو اگلے ہی دن ڈیوڈ روز کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کرتے،فیاض الحسن چوہان نے شہباز شریف کو ڈرامے باز قرار دے دیا

datetime 30  جنوری‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ آج دنیا کے سب سے بڑے ڈرامے باز وزیرِ اعلی شہباز شریف برطانوی جریدے ڈیلی روز کے رپورٹر ڈیوڈ روز کے خلاف کاروائی کے لیے درخواست دیتے وقت بھی عمران خان پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں، ڈیوڈ روز نے تو بہت عرصہ پہلے آپ کو زلزلہ زدگان کے لیے آنے والی امداد میں خرد برد کرنے پر کفن چور اور نواز شریف کو قزاق کہا تھا،

اگر شہباز شریف سچے ہوتے تو اگلے ہی دن ڈیوڈ روز کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کرتے، ابھی تو آپ نے صرف درخواست دی ہے، جب کیس کا فیصلہ ہو گا، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریف برادران پر چوہدری شوگر ملز، حدیبیہ پیپر ملز، غریب زلزلہ زدگان کی امدادی رقوم کھانے کے ساتھ ساتھ اربوں کھربوں کی لوٹ مار اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں، ان الزامات کا غصہ عمران خان پر مت نکالیں۔ قبل ازیں وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے شہباز شریف اور سردار عثمان بزدار کے بطور وزیرِ اعلی ادوار میں چیف منسٹر سیکریٹریٹ کے اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف کے دور میں سی ایم سیکریٹریٹ میں 450 ملازمین اور دو سو کے قریب افسران تعینات تھے جبکہ سردار عثمان بزدار کے دور حکومت کے پہلے سال میں سی ایم سیکریٹریٹ میں 403 ملازمین اور 145 افسران ہیں۔2017-18 میں شہباز شریف کے دور میں انٹرٹینمنٹ اور تحائف کی مد میں 9 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ سردار عثمان بزدار کے دور حکومت کے پہلے سال میں تحائف اور مہمان نوازی کی مد میں 5 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ شہباز شریف کے بطور وزیرِ اعلی آخری سال میں پٹرول کی مد میں 3 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ عثمان بزدار پٹرول کا خرچ دو کروڑ دس لاکھ تک لے کر آئے۔

فیاض الحسن چوہان نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 4 کروڑ 24 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہ گزشتہ سال میں دو کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 2017-18 میں 6 کروڑ 64 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے اس کے برعکس وزیرِ اعلی سردار عثمان بزدار کے دور حکومت کے پہلے سال میں یہ خرچ صرف 19 لاکھ روپے رہا۔ شہباز شریف کے دور میں ڈائریکٹر لیول کے افسران کو منی لانڈرنگ میں استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے متعدد کیمپ آفسز کے برعکس سردار عثمان بزدار کا ایک بھی کیمپ آفس نہیں ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ سردار عثمان بزدار نے عمران خان کے ویژن کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں عوام کی خدمت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…