بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کھلنڈروں سے معیشت بہتر نہیں ہو رہی نہ ہی ان سے مہنگائی کنٹرول ہو رہی ہے، حکمرانوں نے جو سبز باغ دکھائے وہ عوام پر بم بن کر برس رہے ہیں، حمزہ شہباز کا دھماکہ خیز بیان

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما وپنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ معاشرے سے برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے جو کہ کسی بھی معاشرے کی تباہی کی علامت ہے، ہماری حکومت سی پیک کی شکل میں پچاس ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری لائی، اندھیروں کو روشنیوں میں بدلہ جبکہ اب معیشت سسکیاں لے رہی اور ڈوب رہی ہے،

لوگ بے روزگار ہورہے ہیں اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو وہ وقت دور نہیں جب قوم ان کا محاسبہ کرے گی۔ حمزہ شہباز نے پنجاب اسمبلی میں ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کھلنڈروں سے معیشت بہتر نہیں ہو رہی نہ ہی ان سے مہنگائی کنٹرول ہو رہی ہے،گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوش ربا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ نوازشریف کے دور حکومت میں اس طرح مہنگائی نہیں تھی جبکہ اب غریب آدمی صبح شام حکومت کو بدعائیں دیتا ہے، وہ وقت دور نہیں جب عوام بہت جلد اس حکومت سے نجات حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جو توقعات اور سبز باغ دکھائے گئے وہ بجلی ا ور گیس کے بلوں کی صورت میں بم بن کر برس رہے ہیں،ہر چیز کا منطقی انجام ہوتا ہے لیکن ان سے مہنگائی کنٹرول نہیں ہورہی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سی پیک کی مخالفت کرتی تھی اور آج نواز شریف کے منصوبوں پر تختیاں لگاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت ڈوب رہی ہے، لوگ بے روزگار ہورہے ہیں،حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لے،تو وہ وقت دور نہیں جب قوم ان کا محاسبہ کرے گی – انہوں نے کہا کہ عوام پر ٹیکس، گیس بجلی ریٹ میں اضافہ کرکے عوام کی زندگی میں قیامت برپاکر دی ہے، ہماری حکومت نے سی پیک میں پچاس ارب ڈالر سے ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کی اور اندھیروں کو روشنیوں میں بدلا جبکہ موجودہ حکمران ایک بارپھر ملک کو اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…