بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنیوالے مافیا کو جانتے ہیں تو پھر اسے پکڑتے کیوں نہیں ،کیا طاقتور مافیا کو اسی طرح غریبوں کا خون چوسنے کی کھلی چھوٹ ملی رہے گی؟حکومت کی نااہلی اور ناکامی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا گیا

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت کے ہر فیصلے سے ثابت ہو رہاہے کہ ہر سطح پر دو دو پاکستان ہیں ۔ اگر آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنے والے مافیا کا تعلق اپوزیشن سے ہوتا تو اب تک وہ پکڑا جاتا اب چونکہ اس مافیا کا تعلق سرکاری پارٹی اور حکومت سے ہے ، اس لیے اب تک اس پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکا ۔ وزیراعظم مافیا کو بھی خوب جانتے ہیں

اور انہیں اپنی بے بسی کا بھی پتہ ہے ۔ سندھ ہائیکورٹ کا بلدیہ فیکٹری سمیت دیگر اہم مقدمات کے پس پردہ حقائق عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ خو ش آئند ہے اس سے بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام سامنے آئیں گے اور عوام جرائم کی دنیا کے اصل محرکات کو جان سکیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنے والے مافیا کو جانتے ہیں تو پھر اسے پکڑتے کیوں نہیں ۔ کیا طاقتور مافیا کو اسی طرح غریبوں کا خون چوسنے کی کھلی چھوٹ ملی رہے گی ۔ حکومت نے مہنگائی کے مارے عوام کو مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاہے ۔ حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا سب سے زیادہ فائدہ مافیاز اٹھا رہے ہیں ۔ آٹا اور چینی مافیا کے ساتھ ساتھ لینڈ اور ڈرگ مافیا بھی طاقتور ہوگیاہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ مافیاز حکومتی صفوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وزیراعظم خود بھی اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں مگر اس پر ہاتھ نہیں ڈالا جارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس مافیا کا تعلق اگر حکومت اور حکومتی پارٹی سے نہ ہوتا تو شاید اب تک کئی گرفتار یاں ہوچکی ہوتیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ غریب جرم کرتاہے تو فوراً پکڑا جاتاہے اور اسے کڑی سزائوں کا سامنا کرناپڑتاہے مگر جب طاقتور مافیاز اور بڑ ے جرم کرتے ہیں تو آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں ۔ کمزور کو پکڑنے کے لیے حکومت شیر ہو جاتی ہے اور طاقتور مجرموں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ہے ۔ وزیراعظم کے ایک پاکستان کے نعرے کے غبارے سے بھی ہوا نکل گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ قوم بلدیہ فیکٹری کے 260 مزدوروں کے قاتلوں کا عبرتناک انجام دیکھنا چاہتی ہے ۔ ان مزدوروں کے خاندان یتیم بچے ، بیوائیں اور بوڑھے والدین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا ۔ سندھ اسمبلی کا اس مقدمہ کے حقائق تک عوام کو رسائی دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے ۔ امید ہے کہ سندھ اسمبلی بارہ مئی ، دس محرم اور بارہ ربیع الاو ل کے سانحات کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…