جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

گرفتاریوں کے بجائے یہ کام کیا جائے،  منظور پشتین کی گرفتاری پر فیصل کریم کنڈی کا شدید ردعمل، فوری رہائی کا مطالبہ

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے جنرل سیکرٹری اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نتے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گزشتہ رات گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بجائے گرفتاریوں کے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں سے مذاکرات کئے جائیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گرفتاریوں سے

حالات مذید خراب ہوتے ہیں اور سیاسی مسائل کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی احمقانہ اور قابل مذمت اقدام ہے کہ ریاستی جبر کے ذریعے قبائلی نوجوانوں کی آواز کو اس وقت دبایا جا رہا ہے جبکہ ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے،صرف ایک روز قبل وزیر دفاع پرویز خٹک نے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو ڈائیلاگ کی دعوت دی تھی  اور جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی کیوں رکاوٹ بنے گا۔ اب وزیردفاع کو قوم کے سامنے اس کی وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ فیصل کریم کنڈی نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں عوام کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کی جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور یہ کام پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ منظور پشتین کی گرفتاری کی سے یہ مطالبہ ختم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے کے پی میں ضم ہونے کے بعد آخر قبائلی علاقے اب تک کیوں نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں اور وہاں پولیس کا کام دیگر ایجنسیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو قبائلی علاقوں میں تعینات کیا جائے، تباہ شدہ گھر تعمیر کئے جائیں، تمام اسکول اور کالجوں کی تعمیر نو کی جائے اور قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے تمام لوگوں کو واپس آباد کیا جائے۔ فیصل کریم کنڈی نے یاد دلایا کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سوات میں امن قائم کرنے کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کو دوبارہ بسایا گیا تھا تو اب حکومت قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کیوں نہیں کر رہی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…