بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

گرفتاریوں کے بجائے یہ کام کیا جائے،  منظور پشتین کی گرفتاری پر فیصل کریم کنڈی کا شدید ردعمل، فوری رہائی کا مطالبہ

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے جنرل سیکرٹری اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نتے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گزشتہ رات گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بجائے گرفتاریوں کے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں سے مذاکرات کئے جائیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گرفتاریوں سے

حالات مذید خراب ہوتے ہیں اور سیاسی مسائل کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی احمقانہ اور قابل مذمت اقدام ہے کہ ریاستی جبر کے ذریعے قبائلی نوجوانوں کی آواز کو اس وقت دبایا جا رہا ہے جبکہ ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے،صرف ایک روز قبل وزیر دفاع پرویز خٹک نے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو ڈائیلاگ کی دعوت دی تھی  اور جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی کیوں رکاوٹ بنے گا۔ اب وزیردفاع کو قوم کے سامنے اس کی وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ فیصل کریم کنڈی نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں عوام کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کی جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور یہ کام پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ منظور پشتین کی گرفتاری کی سے یہ مطالبہ ختم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے کے پی میں ضم ہونے کے بعد آخر قبائلی علاقے اب تک کیوں نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں اور وہاں پولیس کا کام دیگر ایجنسیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو قبائلی علاقوں میں تعینات کیا جائے، تباہ شدہ گھر تعمیر کئے جائیں، تمام اسکول اور کالجوں کی تعمیر نو کی جائے اور قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے تمام لوگوں کو واپس آباد کیا جائے۔ فیصل کریم کنڈی نے یاد دلایا کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سوات میں امن قائم کرنے کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کو دوبارہ بسایا گیا تھا تو اب حکومت قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کیوں نہیں کر رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…