خارجہ پالیسی میں دوست بنائے جاتے ہیں آقا نہیں، خارجہ پالیسی امریکی مفادات کے گرد گھومتی ہے، جھگڑا صرف کرسی کاہے، سراج الحق نے حکومت کے سامنے بڑے سوال رکھ دیے

  ہفتہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2020  |  23:41

لاہور(این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومتی ٹیم نااہل اور وزیراعظم اس کے سربراہ ہیں، سابقہ حکمران پارٹیوں اور موجودہ حکومت میں کوئی اختلاف نہیں جھگڑا صرف کرسی کاہے، خارجہ پالیسی میں دوست بنائے جاتے ہیں آقا نہیں، حکومت کی خارجہ پالیسی پاکستان کے نہیں امریکی مفادات کے گرد گھومتی ہے یہی وجہ ہے کہ بیرونی دوروں میں کشمیر کو ترجیح اول بنانے کی بجائے افغانستان میں امریکی مفادات پر فوکس رکھا گیا،امریکی مفادات کے حصول کو اپنی پراگرس اور کارکردگی بنا کر پیش کیا جاتاہے، 5 فروری کو اندرون و بیرون ملک کشمیریوں کے


ساتھ اظہا ر یکجہتی کے بے مثال مظاہرے کیے جائیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف او ر دیگر ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت خود کہتی ہے کہ آٹے کی قلت اور قیمت میں اضافہ مصنوعی ہے تو پھر اب تک ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں کیا گیا۔ لگتا یہی ہے ذمہ دار بہت بااثر اور حکومت کا حصہ ہیں اس لیے حکومت خود کو ہتھکڑیاں لگانے سے ڈر رہی ہے۔ طاقتور مافیا نے حکومت کو یرغمال بنا رکھاہے اور یہ ایسی قید ہے جس سے حکومت آزاد ہونے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت میں بیٹھے شوگر اور آٹا مافیا نے چند دنوں میں عوام کی جیبوں سے اربوں روپے لوٹ لیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب تو چیف جسٹس بھی اس بات پر حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ملکی تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے جس کو جرمانہ کیا گیا مگر اس پر پھر بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ ابھی تک عدالتوں کی طرف سے شوگر، لینڈ اور ڈرگ مافیا کے خلاف کوئی سوموٹوایکشن نہیں لیا گیا، اب جماعت اسلامی عوام سے رجوع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت احتساب میں اس لیے ناکام ہوئی ہے کہ جن سے حساب لینا تھا وہ بڑی تعداد میں خود حکومتی صفوں میں بیٹھے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ٹرمپ سے بڑا کوئی شعبدہ باز نہیں، وہ بار بار دھوکہ دے رہاہے اور ملی غیرت و حمیت سے عاری حکمران پھر جاکر اس کے چرنوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹرمپ مودی کا یا ر اور مسلمانوں کا دشمن ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک کشمیر اور فلسطین کے مسائل حل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ان مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہی امریکہ ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎