بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ہمیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا، ماڈل کورٹس کا قیام فوری اور سستے انصاف کی جانب ایک قدم ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا زبردست اعلان

datetime 25  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے،ماڈل کورٹس کا قیام فوری اور سستے انصاف کی جانب ایک قدم ہے۔ ہفتہ کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا شکر گزار ہوں کہ وہ اس طرح کی ورکشاپس کا انعقاد کرتے ہیں،

ہم نے پاکستان کی تاریخ میں بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا ہے اسی طرح کرمنل جسٹس سسٹم میں بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کرمنل جسٹس سسٹم کو فعال بنانے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ فوجداری نظام عدل کے فعال نہ ہونے سے معاشرے کو نقصان ہو گا،بحیثیت ججز ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بھر پور طریقہ سے سر انجام دینا ہو گا اور ہمیں پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،ہمارا آئین پاکستان 1973 میں بنا تھا جس میں فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے،انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حق انہیں فراہم کیا جا رہا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل کورٹس کا قیام فوری اور سستے انصاف کی جانب ایک قدم ہے۔ ڈی جی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی حیات علی شاہ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ ہفتہ کے روز بھی کام کرتے ہیں جس سے ہمیں ہمت ملتی ہے،ان کو اس طرح کام کرتا دیکھ ہم میں بھی کام کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس ہفتہ اور اتوار کا دن قربان کرنے کیلئے تیار ہیں تو ہمیں بھی ملک کے قانونی نظام کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ واضح رہے کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کی تربیت کیلئے 7 روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…