پاک سر زمین پارٹی نے لاڑکانہ کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرکے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا، سیاست کے بازیگروں کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

  جمعہ‬‮ 24 جنوری‬‮ 2020  |  23:06

لاڑکانہ (این این آئی) سندھ کے لوگوں نے لسانیت اور نفرتوں کے بت توڑ دیئے ہیں، کراچی سے کشمور اور کشمور سے کشمیر تک پی ایس پی کے جھنڈے تلے اب سب ایک ہوچکے ہیں، مہاجر اور سندھ کارڈ کھیلنے والے اللہ سے توبہ کریں، آج سندھ ایک ہوگیا، کارکنوں نے میرے خوابوں کو تعبیر کی دنیا دکھادی، سندھ کے کوئی ٹکڑے نہیں کرسکتا، انہیں پتہ ہے کہ کوئی سندھ کے باسیوں کو الگ نہیں کرسکتا، سندھی انصار کی طرح ہیں، جب اللہ کے نام پر ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی زمینیں چھوڑیں تو سندھیوں نے گلے لگایا۔ہمارے درمیان کوئی


نفرتیں نہیں، سندھ کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔ سندھ پر کوئی بری نظر نہیں ڈال سکتا، اپنی ناکامی چھپانے کے لیے مہاجروں کے نام پر آواز لگاتے ہو کہ سندھ کے دو ٹکڑے کرو گے، مہاجر یہ نہیں چاہتا، مہاجر اپنے بھائیوں کے ساتھ سندھ کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا جہاں وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہو،عوام ہمارا ساتھ دے ایسی قانون سازی کریں گے کہ جس کے ذریعے اختیارات اور وسائل گلی، محلوں، کوچوں، اور گوٹھوں تک منتقل ہوں، ہر گلی میں اسی کی نمائندہ قیادت ہوگی۔ مضبوط ترین بلدیاتی نظام متعارف کرائیں گے۔ان خیالات اظہار چیئرمین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال نے لاڑکانہ کے فقید المثال جلسے کے شرکاء خطاب کر تے ہوئے کیا۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کے میرا باپ بھی اس دھرتی میں دفن ھے اور ھماری نسلیں بھی یہاں دفن ہونگی ریاست مدینہ بنانے کا دعوی کرنے والے سن لیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کو پانی پلانے پر جنت کی بشارت دے دی تھی۔ جبکہ آپ جو ریاست مدینہ کا دعوہ کرتے ہیں دیکھ لیں کہ سندھ صاف پانی سے محروم ہے۔: اللہ کی افضل مخلوق کو پینے کا صاف پانی تک موجود نہیں، تھر میں۔روزانہ کئی بچے مر رہے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لاڑکانہ۔میں 3 ہزار سے زائد افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے، لیکن علاج نہیں حکمرانوں کا کام جھوٹ پر چل رہا ہے، انہوں نے کہا کے تنبیہ کرتا ہوں کہ ریاست مدینہ کی جھوٹی بات مت کرو۔ جھوٹی بات کرنے والوں کو اللہ جہنم میں ڈالے گا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لاڑکانہ کے بھائیو، پاکستان کے لوگو میرا ساتھ دو۔میں تمہارے دروازوں پر تمہارے قدموں میں حکمرانی لاؤں گا۔مجھے ووٹ دو میں آئین میں ایک دن میں ترمیم کروں گا۔ مصطفیٰ کمال۔نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 148 کو چار لائنیں لکھ کر چھوڑ دیا گیا ہے اور ہر وزیر اعلی آئین کے اس آرٹیکل کی اپنی مرضی کی تشریح کرتا ہے۔ مصطفیٰ کمال۔نے کہا کے یہ حکمراں الیکٹورل ریفارمز نہیں چاہتے، الیکشن کمیشن کو بہتر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کے میرا دشمن بھی مجھ پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا، اگر لگائے تو ثابت نہیں کر سکتا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے حکمرانوں اللہ کے قانون سے ڈرو، پرفارم کرو مسائل حل کرو۔۔ ہم نے ہمیشہ سچ بولا تب بھی جب کراچی میں سچ بولنے کے سب سے چھوٹی سزا موت تھی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کے ہم بھی یو ٹرن۔لے سکتے تھے لیکن تب بھی میں اور میرے ساتھیوں نے سچ بولا۔ھم اللہ کی رضا چاھتے ہیں۔ کے مخلوق کی عزت کرو۔۔مصطفیٰ کمال نے کہا کے ساتھیو تیاری کرو کامیابی تمہیں ملنے والی ہے۔انہوں نے کہا کے ظالم وہ نہیں جو کر رہا ہے ظالم وہ بھی ھے جو برداشت کر رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کے ظلم برداشت مت کرو، ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، اللہ تعالی بھی ظالم کو نیست نابود کر دیں گے۔کوئی بھی قبر میں سندھی پنجابی بلوچ نہیں ہوگا۔مصطفیٰ کمال۔نے کہا کے اللہ تعالی ہمیں آزما رہے ہیں کہ ہم ظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں یا نہیں جس دن ظلم اور ظالم کے خلاف ایک ہو کر آواز بلند کی تو اللہ تعالی کامیابی ضرور دیں گے۔انہوں نے مجمع سے سوال کیا کہ آج تک الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کے لیے کیا سیاسی جماعتوں نے الیکشن اصلاحات پر سر جوڑا ہے؟انہوں نے کہاکہ اگر الیکشن صاف و شفاف کرانے سے متعلق قانون بنالیا گیا کہ دھاندلی نہ ہوسکے تو پھر یہ خود ہی غائب ہوجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کے بعد پی ایف سی ایوارڈ ملنا چاہیے،سب لوگ عوامی مسائل پر سر جوڑ کر کیوں نہیں بیٹھتے،بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آئین میں مکمل چیپٹر ہونا چاہیے جس طرح کراچی کو دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے شہروں میں شامل کیا ویسے ہی سندھ کو بھی ترقی دیں گے۔اس موقعے پر انیس قائم خانی, ارشد وورا، اشفاق منگی، آسیہ اسحاق اور دیگر رہنماء موجود تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎