بچی سے زیادتی انتقام لینے کے لئے کی، ملزم کے ساتھ بچی کے ماموں نے انتہائی گھناؤنا کام کیا، مرکزی ملزم کے افسوسناک انکشافات

  جمعرات‬‮ 23 جنوری‬‮ 2020  |  21:35

نوشہرہ(این این آئی) بچی کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرنے والے ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ مقتولہ حوض نور کے ماموں نے حجرے میں مجھے دو مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔نوشہرہ میں بچی حوض نور کے قتل کیس کے مرکزی ملزم ابدار کے اعترافی بیان کی کاپی منظر عام پر آگئی بیان کے مطابق ملزم ابدار کا کہنا ہے کہ حوض نور کے ماموں شہزاد نے مجھے دو دفعہ اپنے حجرے میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایاجس کے بعد اس نے انتقام لینے کے لیے حوض نور


سے تعلق بنایا۔ملزم نے بتایا کہ خواہش پوری کرنے سے انکار پر نور کو پانی کی ٹینکی میں پھینک دیا، نکلنے کی کوشش کے دوران اس نے نور کی گلا دبا دیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ملزم نے مزید بتایاکہ لاش ملنے پر بچی کے والدین میرے گھر پہنچ گئے اور حجرے لے جا کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا پھر پولیس مجھے تھانے لے آئی۔ڈی پی او نوشہرہ کاشف ذوالفقار نے بتایا کہ حوض نور کے نمونے ڈی این اے کے لیے خیبر میڈیکل کالج بھیجے گئے اور مزید بہتر نتائج کے لیے نمونے پنجاب فورنزک لیب بھیج دیے گئے ہیں، ملزم کے خون کے نمونے بھی لاہور بھیجے گئے ہیں۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے نوشہرہ میں بچی سے زیادتی کیس سے متعلق کمیٹی قائم کردی ہے جسے ایک ماہ میں سخت ترین سزاؤں کے حوالے سے حتمی سفارشات اور قانونی ڈرافٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلی نے کہا کے ہم صوبے میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن حد تک جائیں گے۔وزیر اعلیٰ محمود خان نے اسپیکر صوبائی اسمبلی سے رابطہ کرتے ہوئے اسپیشل کمیٹی برائے چائلڈ پروٹیکشن کو فوری طور پر فعال بنانے کی درخواست بھی کی۔واضح رہے کہ 20 جنوری کو 7 سالہ حوض نور کی لاش کھیت کے قریب ٹینک سے ملی، علاقہ مکینوں نے بچی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں دو ملزمان کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہمیں جاگنا ہو گا

چارلی ہیبڈو فرانس کا ایک ہفت روزہ میگزین ہے‘ یہ میگزین 1970ء میں شروع ہوا‘1981ء میں بند ہوا پھر 1991ء میں دوبارہ لانچ ہوا اور انتظامیہ نے اسے فروری2015ء میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ مالکان شرارتی ذہنیت کے مالک ہیں‘یہ میگزین کو مشہور کرنے کے لیے نبی اکرمؐ کے گستاخانہ خاکے شائع کرتے ....مزید پڑھئے‎

چارلی ہیبڈو فرانس کا ایک ہفت روزہ میگزین ہے‘ یہ میگزین 1970ء میں شروع ہوا‘1981ء میں بند ہوا پھر 1991ء میں دوبارہ لانچ ہوا اور انتظامیہ نے اسے فروری2015ء میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ مالکان شرارتی ذہنیت کے مالک ہیں‘یہ میگزین کو مشہور کرنے کے لیے نبی اکرمؐ کے گستاخانہ خاکے شائع کرتے ....مزید پڑھئے‎