جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

نیب کے پاس کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں، نیب  صرف تفتیش ہی کر سکتا ہے،ہائیکورٹ نے واضح کردیا

datetime 22  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سندھ روشن بنک پروگرام کرپشن کیس میں پیپلز پارٹی رہنما شرجیل میمن کی عبوری ضمانت میں 11فروری تک توسیع کردی جبکہ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے پاس کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں نیب صرف تفتیش ہی کر سکتا ہے۔ بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ  میں سندھ روشن بنک پروگرام کیس میں پیپلز پارٹی رہنما شرجیل میمن کی

درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس لبنیٰ سلیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی، شرجیل میمن اپنے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، شرجیل میمن کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے نیب آرڈیننس کے تحت انکوائری ختم کرنے کی درخواست بھی دی ہے، نیب سولر پینل کیس میں شرجیل میمن کی گرفتاری چاہتا ہے، شرجیل میمن نے صرف بطور وزیر سندھ روشن پروگرام کی سمری آگے بھیجی، بلکہ منصبوے کی منظوری دینے والی کمیٹی کے رکن بھی نہیں تھے، دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شرجیل میمن پہلے بھی ایک کیس میں گرفتار رہ چکے ہیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے عدالت کو بتایا کہ پہلے شرجیل میمن اس کیس میں گرفتار نہیں تھے، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ جس کیس میں بھی گرفتار تھے آپ نے اْسی وقت ان سے تفتیش کیوں نہ کی؟ بیس ماہ تک ایک بندہ گرفتار رہے اس وقت تفتیش کی جا سکتی تھی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے پاس کسی کو سزا دینے کا اختیار نہیں صرف تفتیش کر سکتا ہے، عدالت کو بتائیں اب کیوں شرجیل میمن کی دوبارہ گرفتاری چائیے ؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے شرجیل میمن سے منصوبے میں کرپشن کی رقم برآمد کرنی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کے پاس کس قانون کے تحت گرفتار کر کے

رقم برآمد کرنے کا اختیار ہے؟ کیا آپ نے شرجیل میمن کو گرفتار کر کے مارنا ہے، ٹارچر کرنا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے درخواست گزار پر کوئی ٹارچر نہیں کرنا، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پر اظہار برہمی کرکے کہا کہ نیب نے اگر خود سزائیں دینی ہیں تو ہم عدالتیں بند کر دیتے ہیں، نیب کس قانون اور اختیار کے تحت گرفتار کرکے

رقم خود برآمد کر سکتا، تاہم اگر گرفتاری کے دوران کوئی پلی بارگین پر راضی ہو تو وہ پلی بارگین نہیں ہو گا، ملزم پلی بارگین مکمل آزادی اور اپنی مرضی سے ہی کر سکتا ہے، نیب پراسیکیوٹر بولے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود  ہے ضمانت نیب کیس میں ایسے نہیں ہو سکتی، جس پر چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا کہ اگلی سماعت پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دوبارہ پڑھ کر آئیں،

جبکہ تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر گرفتاری کی ٹھوس وجوہات بتائیں، نیب کے پاس گرفتاری کا اختیار کتنا اور کن حالات میں ہے بار بار بتا چکے، نیب گرفتار صرف تفتیش کے لئے کر سکتا ہے، نیب کے پاس رقم برآمد کرنے کا اختیار نہیں، پلی بارگین بھی رضاکارانہ ہوتی ہے، تاہم عدالت نے شرجیل میمن کو 11 فروری تک عبوری ضمانت میں توسیع دے دی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…