ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

48000 میٹرک ٹن گندم کیسے برآمد کی گئی؟ ایک ارب 83 کروڑ روپے کس کی جیب میں گئے؟شہباز شریف گندم سکینڈل پر کھل کر بول پڑے

datetime 20  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے گندم، آٹے کے اربوں روپے کے سکینڈل کا ذمہ دار عمران نیازی اور کابینہ کو قرار دے دیا۔ ایک بیان میں شہباز شریف نے آٹے کی قلت اور پیدا ہونے والے بحران کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ گندم، آٹے اور اب چینی کی قیمت میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ چوبیس گھنٹے سے زائد ہوگیا وزیراعظم اب تک کوئی حکمت عملی پیش نہیں کرسکے،قوم کو نالائق حکومت کی نااہلی، کرپشن اور تباہی کے ایجنڈے سے نجات دلانے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی قیادت کو اپوزیشن سے مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ عوام دشمن ایجنڈے پر کاربند ٹولے سے ملک وقوم کو آزادی دلانے کی حکمت ِ عملی پر غور کیاجائے وفاقی حکومت کی پابندی کے باوجود25 جولائی سے اکتوبر 2019کو 48000 میٹرک ٹن گندم کیسے برآمد کی گئی؟،ایک ارب 83 کروڑ روپے کس کی جیب میں گئے؟۔ انہوں نے کہاکہ وزیر فوڈ سکیورٹی کا دعویٰ ہے کہ 25 جولائی کے بعد ایک دانہ بھی ملک سے باہر نہیں گیا تو پھر جنات گندم باہر لے گئے؟،گندم اور اس پر مال کس کس نے کھایا؟ ایک ایک پائی کا قوم کو حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آج ایک زرعی ملک کو گندم درآمد کرنا پڑرہی ہے، اس سے زیادہ نالائقی، نااہلی اور شرم کی اور کیابات ہوگی؟یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ ستمبر 2018ء سے لے کر اکتوبر2019ء تک پاکستان نے 6 لاکھ 93 ہزار میٹرک ٹن گندم برآمد کی۔ انہوں نے کہاکہ گندم کس قیمت پر پہلے ملک سے باہر بھیجی گئی؟ اور اب کس قیمت پر ملک میں درآمد کی جائے گی؟ اس کا بھی حساب دینا ہوگا،بجلی، گیس، روزگار چھیننے کے بعد اب قوم سے ایک وقت کی روٹی بھی چھینی جارہی ہے،مزدور سے روزگار تو پہلے ہی چھن چکا ہے،

اب اس کے بچوں کا نوالہ بھی چھین لیاگیا ہے،یہ ظلم کی حکومت ہے جو مزید نہیں چل سکتی،نالائق حکومت جاری رہی تو خدانخواستہ پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہر محب وطن پاکستانی کو پاکستان کی فکر ہے، نالائق ٹولے سے جس قدر جلد نجات ہوگی، پاکستان کے قومی، عوامی مفادات کے لئے اچھاہے،تکبر، ضد اور حماقتوں نے ملک کے ہر شعبہ کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر پارٹی کے قائدین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ تمام سیاسی قائدین اور جماعتوں کے پارلیمانی سربراہان سے رابطہ کرکے ٹھوس حکمت عملی وضع کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم عوام کو نالائق ٹولے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…