جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

خدارا میرا پلاٹ میری بہو کے نام کیا جائے ، اس پر کس بااثر شخصیت نے قبضہ کیا ہوا ہے ؟ لینڈ مافیا کی حمایت حکومت میں موجود کون لوگ کر رہےہیں خاتون نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کر دیا

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد،اٹک(آن لائن)لینڈ مافیا کے خلاف اندرون و بیرون ممالک سے وزیر اعظم سیٹزن پورٹل پر شکایات کے انبار لگ گئے ہیں ،پورٹل پر شکایات کی فارورڈنگ فاسٹ مگر نتیجہ صفر ملنے لگا،مافیا کو مافیا کی حمایت نے وزیر اعظم کے ویژن کو گہنانا شروع کر دیا۔معلومات کے مطابق برطانیہ سے یاسمین بی بی نے پورٹل پر التماس کی ہے کہ 2015میں انکے شوہر کی وفات کے بعد اٹک کے

لینڈ مافیا ملک طاہر اعوان نے انکے قیمتی پلاٹ پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں انہوں نے انکے کزن تیمور کو دبانے کے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے مقدمہ کا اندراج کروا دیا،اور بی بی یاسمین نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ان کا پلاٹ جوکہ دارلسلام اٹک میں واقع ہے میری بہو سمیرا بی بی کے نام کر دیا جائے ۔واضع رہے کہ مذکورہ قبضہ مافیا کے خلاف ایک اور خاتون کرنل ریٹائرڈ خالد کی بھی قیمتی زمینوں پر ہاتھ صاف کر لیے او ر کئی برس بیت گئے کہ مذکورہ خاندان بھی انصاف کے لیے دربد ر ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک طاہر اعوان کی حمایت موجودہ حکومت کے بااثر مشیر اوورسیز کے قریبی رشتہ دار کر رہے ہیں جس کے باعث انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…