جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ڈیڑھ سال میں ہر چیز اوپر گئی، اگر کوئی چیز نیچے آئی ہے تو وہ آمدن ہے،سراج الحق نے حکومت کو نحوست قرار دیدیا

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

گوجر خان (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں آٹے کے بحران نے حکمرانوں کی لاعلمی اور نااہلی کا پول کھول دیاہے۔ڈیڑھ سال میں ہر چیز اوپر گئی، اگر کوئی چیز نیچے آئی ہے تو وہ آمدن ہے،موجودہ حکومت کی نحوست کی وجہ سے ملک سے خیر و برکت اٹھ گئی ہے،مہنگائی، بے روزگاری اور مایوسی کے اندھیروں نے ملک کو چاروں طرف سے گھیر لیاہے۔

اناج میں کمی، آٹا سمیت خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب کی کمر توڑ دی ہے۔آٹے کے بحران اور مہنگائی نے مزدور کو بستر مرگ پر پہنچا دیاہے۔ موجودہ حکومت نے پندرہ ماہ میں عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسائے ہیں۔ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش نہ کی تو عوام اسے زیادہ دیر برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت میں آنے سے پہلے عمران خان کہتے تھے کہ جو حکومت ڈلیور نہ کر پا رہی ہو اس حکومت کو ٹیکس یا بل نہیں دینا چاہیے۔ آج ان کی حکومت ڈلیور نہیں کر پا رہی تو کیا اس حکومت کو ٹیکس یا بل دیا جانا جائز ہے؟۔ ایک طرف حکومت آٹا، چینی، گھی، دالیں اور دیگر اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے تو دوسری طرف وزراء عوام کی بے بسی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان شہزادوں کے دلوں میں غریب کے لیے کوئی درد نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرخان میں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ایک سال میں شوگر ملز مافیا نے 155 ارب روپے اپنی جیبوں میں بھرے ہیں۔ چینی کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہواہے، کیا چینی باہر کے ملک سے درآمد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آٹے اور گندم کا بحران پیدا ہونے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو پتہ لگائے کہ یہ بحران کیسے پیدا ہوا ہے۔ اس سازش میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور گندم کی پیداوار میں بھی خود کفیل ہوگیا تھا لیکن موجودہ حکومت کی بدتدبیری نے ملک میں آٹے کے بحران کو جنم دیا ہے۔

دس لاکھ ٹن گندم کو مرغیوں کی خوراک میں شامل کر دیا گیا۔ کئی لاکھ ٹن گندم باہر بھجوا دی اور ناقص زرعی پالیسیوں کی وجہ سے 20 لاکھ ٹن گندم کی پیدوار میں کمی ہوئی ہے اب تو پاکستان کے عوام جھولیاں اٹھا اٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں نیا پاکستان نہیں چاہیے ہمیں پرانا پاکستان ہی لوٹادو۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام ملک میں نئے کارخانے چاہتے ہیں لیکن حکومت لنگر خانے بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی مہنگائی، بے روزگاری کے خلاف تحریک چلائے گی۔ جماعت اسلامی عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتی ہے۔ انشاء اللہ جماعت اسلامی بر سر اقتدار آ کر عوام کو تعلیم و صحت مفت اور خوراک ارزاں قیمت پر فراہم کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…