حکومت نے کتنا زیادہ بیرونی قرضہ ادا کر دیا، وفاقی وزیر نے انتہائی اہم انکشاف کر دیا

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  22:37

دوحہ (آن لائن) وزیر مملکت برائے ریاستوں اور سرحدی خطوں (سیفران) اور نارکوٹکس کنٹرول پاکستان، شہریار خان آفریدی نے حال ہی میں دوحہ میں پاکستانی کمیونٹی کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا جس کی میزبانی ان کے اعزاز میں کمیونٹی  کے ممتاز ممبران نے کی۔ عشائیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی قابل ذکر شخصیات نے شرکت کی، جن میں عبد القہار، عابد علی، محمد حسین، کامران ترکی، اکرام بنگش، عائشہ ودود،سعید باچا، موسی عالم، محمد شیخ، آصف ریاض، اظہار احمد، سجاد احمد، عامر سعید، اجمل خان، حسان لاشاری اور غلام مصطفٰی نہرہ شامل تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے


وزیر نے کہا کہ قطر میں رہائش پذیر اور ملازمت کرنے والے غیر ملکی خصوصی طور پر وطن واپس آنے والے حکومت کو بہت عزیز ہیں۔“پاکستان میں موجودہ حکومت قطر کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات سے قابل تحسین ہے۔ جب بھی میں یہاں آتا ہوں، مجھے ہمیشہ ہی قطر کی حکومت نے بے مثال مہمان نوازی کی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ وہ احترام ہے جو یہاں پاکستانیوں کی لگن اور محنت سے حاصل کیا گیا ہے۔وزیر نے برادری پر زور دیا کہ وہ جہاں کام کرتے ہیں وہاں کے قوانین کی پاسداری کریں۔“قطر نے انمول مواقع فراہم کیے ہیں۔ یہ آپ سب کے لئے گھر سے دور ایک گھر ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ سخت محنت کرتے رہیں اور ملک کے قواعد و ضوابط پر عمل کریں۔ بہت سارے پاکستانی ہیں جن کو میں جانتا ہوں کہ وہ قطر میں اپنی جگہ بناچکے ہیں۔ وہ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ یہاں کھلے دل کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور ان کے کاروبار میں انہیں کس طرح سہولت فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں اپنی سخت محنت کا صلہ ملتا ہے۔ آپ کو پاکستان اور قطر دونوں کو یہ احترام واپس کرنا ہوگا۔ قطر میں امن و امان کے حکام سے میری ملاقات میں، حکام نے پاکستانی تارکین وطن کی برادری کے کردار کو سراہا۔شہر یار آفریدی  نے کہا کہ حکومت نے 74 ارب سے زیادہ  بیرونی قرضے ادا کر دیئے ہیں،مختلف خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور حکومت اس مقصد کو بہت محنت سے آگے بڑھا رہی ہے۔"دنیا میں پاکستانی تارکین وطن نہ صرف ان کے ملک کی مالی مدد کا ذریعہ رہا ہے بلکہ وہ غیر ملکی ممالک میں بھی پاکستان کے مقصد کو فروغ دیتا رہا ہے۔"پاکستانی وفاقی وزیر نے قطر کے ساتھ مختلف شعبوں میں جاری باہمی تعاون پر روشنی ڈالی۔"دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کر رہے ہیں۔ میری وزارت منشیات کے کنٹرول سے متعلق ہے۔ ہم قطری حکام کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات کے کنٹرول کو روکنے میں بھی کام کر رہے ہیں۔ قطر نے اس سمت میں ہماری حکومت کے اقدامات کو سراہا ہے۔انہوں نے مزید کہا، "ہم نے منشیات کے استعمال کے خلاف شعور بیدار کرنےاور والدین کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کا طریقہ سکھانے کے لئے زندگی (زندگی) کے نام سے ایک موبائل ایپ بنائی ہے۔ میری وزارت منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لئے پہلے ہی متعلقہ ڈیٹا مرتب کرچکی ہے اور ہم دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔وزیر نے 17 ماہ قبل اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستانی حکومت کی پیشرفت پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومتبین الاقوامی قرضوں کی بھرمار ادا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ روپیہ مضبوط ہورہا ہے۔ کاروبار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی اور ملکی سیاحت عروج پر ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستانی معیشت سے متعلق حوصلہ افزا رپورٹس جاری کرتے رہے ہیں۔"وزیر اعظم کی ذاتی کوششوں کے نتیجے میں قطر سمیت مختلف خلیجی ممالک سےہزاروں پاکستانیوں کی رہائی ہوئی ہے۔ عمران خان نے سفیروں کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اچھی دیکھ بھال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان میں اقلیتیں پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔ اقلیتی برادری اتنی ہی پاکستانی ہیں جتنا ملک کا کوئی دوسرا شہری ہے۔آخر میں، کمیونٹی کے اراکین نے پاکستان میں تارکین وطن کو درپیش مختلف امور پر روشنی ڈالی۔ وزیر نے کمیونٹی کو بتایا کہ ان کے معاملات ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎