نالائق اور نکمی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی، نااہل حکومت سے نجات حاصل کئے بغیر ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا، وزیراعظم کے استعفیٰ دینے کی بات کر دی گئی

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  22:41

لاہور (آن لائن) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے کہا ہے کہ نالائق اور نکمی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت ہر محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ نااہل حکومت سے نجات حاصل کئے بغیر ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا۔ حکومت سے عوام کی مایوسی و بیزاری آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ حکومت دینی مدارس کو مفلوج کرنا چاہتی ہے۔دینی مدارس کو کمزور کرنا حکومت کے سیکولر ایجنڈے کا حصہ ہے۔ دینی مدارس کی آذادی و خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔


حکمران غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے نصاب تعلیم میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ حکومتی اتحادیوں کی ناراضی سیاسی تبدیلیوں کا اشارہ ہے۔ ایک بھی اتحادی جماعت ادھر اُدھر ہوئی تو حکومت ختم ہو جائے گی۔ اپوزیشن حکومت گراؤ ایجنڈے پر متفق ہے۔ ناکام اور نااہل حکومت کو گھر بھیجنے کا وقت قریب ہے۔ فیصل واڈا نے ٹاک شو میں بوٹ لا کر مضحکہ خیز حرکت کی ہے۔ فیصل واڈا سے استعفی لیا جائے۔ برف باری سے متاثرہ علاقوں میں حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔ استعفوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے۔ مارچ تک وزیراعظم بھی استعفی دینے پر مجبور ہو جائے گا۔ ان ہاؤس تبدیلی کا ماحول بن چکا ہے۔ اتحادی جماعتیں حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔ حکومتی ڈھانچہ اپنی بقا کے لئے چند ووٹوں کا مرہون منت ہے۔ بڑھتی مہنگائی کی وجہ حکومت کی ناکام اور ناقص پالیسیاں ہیں۔ حکومت ریاستی اداروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان بے قابو ہو گیا ہے۔ ناکام حکومت کے دور میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جے یو پی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شاہ اویس نورانی نے مزید کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کرائے کی خارجہ پالیسی ہے۔ ہوش ربا مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہے۔ ملک میں بڑھتی سیاسی بے یقینی تشویشناک ہے۔ سیاسی عدم استحکام کی ذمہ دار حکومت ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت تاریخ کی نالائق ترین اور ناکام ترین حکومت ہے۔ پاکستان مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کو بحران سے نکالنا یوٹرن حکومت کے بس کی بات نہیں۔ قوم عمران خان نیازی سے مکمل مایوس ہو چکی ہے۔ کوئی طبقہ حکومت سے خوش نہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎