پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

سود معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے مگر آئی ایم ایف کے غلام حکمران ماننے کو تیار نہیں،سراج الحق نے حکمرانوں کو افلاطون کہہ کر اہم مشورہ بھی دیدیا

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آٹے کی قیمت سن کر ہر کوئی سناٹے میں ہے،سونامی اب غریب عوام کو روٹی کے ٹکڑے سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے،حکومت کو اب ایک یوٹرن مہنگائی کے خلاف اور غریب عوام کے حق میں بھی لینا چاہیے،قرضے اور غلامی کے فیول پر حکومتی گاڑی کب تک چلے گی،جاپان اور کوریا جیسے ترقی یافتہ ممالک تسلیم کرچکے ہیں کہ سود معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے مگر آئی ایم ایف کے غلام حکمران ماننے کو تیار نہیں،

خود کو افلاطون سمجھنے والے کسی سے مشاورت کے قائل نہیں،ہمیں کہتے ہیں کہ آپ اسلام کی بات کرتے ہیں اس لیے ہم آپ کی بات نہیں سن سکتے،شریعت میں تعلیم صحت اور معیشت کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھمبر آزاد کشمیر میں رحمان چلڈرن ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ ملک کے ماہرین معیشت کی بہترین ٹیم معاشی زبوں حالی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔مگر حکمران آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق گلے سے اتارنے کے لیے تیار نہیں۔حکمرانوں نے کل ملکی پیداوارکا91فیصد قرض لیا ہے حالانکہ آئین 60فیصد سے زائد قرض لینے کی اجازت نہیں دیتا۔آج اچھا وزیرخزانہ اسے سمجھا جاتا ہے جو زیادہ قرض لیتا ہے۔بجلی کا چند ہزار بل نہ دینے والے کو تو پکڑ کر جیل بھیج دیا جاتا ہے مگر ملک پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ لادنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔حکمرانوں کی بداعمالیوں کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑرہی ہے۔وزراء بداخلاقی اور نااہلی میں ساری دنیا کے وزارء کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ادویات کی قیمتوں میں دوسو فیصد پر اضافہ ہوچکا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب کے لیے علاج مشکل ہوچکا ہے۔اب تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی تین سو کی بجائے بارہ سو میں ملنے لگا ہے۔جماعت اسلامی کوحکومت کا موقع ملا تو دل،گردوں اور جگر سمیت پانچ بڑی بیماریوں کا مفت علاج ہوگا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم سے چوکیدار تک ہر کوئی ماحول کی خرابی کا ماتم کرتا ہے مگر حالات کو سدھارنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

معیشت کی تباہی اور بربادی کا سبب سودی قرضے ہیں لیکن حکمران ہرروز نئے قرضے لے رہے ہیں اورمعیشت میں بہتری کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ورلڈ بینک کے کلرکوں پر تو اندھا اعتماد کرتی ہے مگر اپنے ملک کے مخلص ماہرین معیشت پر اعتماد کرنے کو تیار ہے نہ ترقی و خوشحالی کے اس معاشی نظام پراعتبار کرتی ہے جس کی ضمانت خود اللہ تعالی نے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے قوم کو آئی ایم ایف کی معاشی غلامی کے شکنجے میں کس دیا ہے۔سودی معیشت استحصالی نظام ہے جو غریب سے اس کا سب کچھ چھین لیتا ہے۔ملک میں تعلیم اور صحت کا نظام تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔27قسم کا نصاب تعلیم قوم کو تقسیم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے۔

آٹے کی قیمت 70روپے کلو تک پہنچ گئی ہے اور شرح سود13.5فیصد ہوگئی ہے۔سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ اب آئی ایم ایف کے لوگ بھی حکمرانوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔آئی ایم ایف نے تمام محکموں میں اپنے لوگ بٹھا دیئے ہیں،جو معیشت کو مانیٹر کررہے ہیں۔کشمیر میں چھ ماہ سے ظلم و جبر کی سیاہ رات ہے لیکن دنیاتماشائی بنی ہوئی ہے۔شدید برف باری نے کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔آزاد کشمیر کی کئی بستیاں برف میں دب گئی ہیں۔ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستانی قوم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی چیخ و پکار بھی سنیں اور آزادکشمیر کے برف سے متاثرہ لوگوں کی مدد بھی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ قوم غربت،جہالت،مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات اور کشمیر کی آزادی چاہتی ہے تو اس کے پاس جماعت اسلامی کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں۔قوم کو کھل کر جماعت اسلامی کا ساتھ دیناہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…