بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں موجود کتنے کروڑ خواتین کے شناختی کارڈ ابھی تک نہیں بنے؟حکومت نے بڑا اعتراف کر لیا

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) سینیٹ میں خواتین سے حقوق سے متعلق بحث پر سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ ایک کروڑ سے زائد اب بھی ایسی خواتین ہیں جن کے شناختی کارڈ نہیں بن سکے اور لاکھوںخواتین شناختی کارڈ بننے کے باوجود اپنا قانونی اور آئینی حق استعمال کرنے سے قاصر ہیں ہمیں خواتین کے حقوق سے متعلق غافل نہیں رہنا چاہیے حکومت اور اپوزیشن اس اہم مسئلے پر متفق ہوجائیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ

ہماری ترقی کی راہیں جلد کھل جائینگی انہوں نے کہا کہ خواتین و حضرات سے متعلق اب بھی آمدن ، کام کا کھلا تضاد کیاجارہا ہے مرد کو سو روپے وصول ہوںتو وہی کام کرنے کی صورت میں عورت کو 70 روپے ادا کئے جاتے ہیں اس فاصلے کو کم کرنے کیلئے ہمیں مل جل کر کام کرنا ہوگا جبکہ سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ ہماری گزشتہ حکومت میں خواتین سے متعلق قرضوں کیلئے اربوں روپے مختص کئے گئے تھے اور ان کو مانیٹر کرنے کیلئے میں نے خود بہت ساری جگہوں کا معائنہ کیا تو خواتین ڈیری ، سلائی سنٹر ، سیلون و دیگر کاموں کیلئے قرضے حاصل کررہی تھیں جو خوش آئند بات ہے اور اسی طرح کے اقدامات حکومتوں کو اٹھانے چاہیے تاکہ خواتین معاشرے کا اہم ستون ثابت ہوں سینیٹر مشتاق نے کہا کہ میں نے پوری رپورٹ کاجائزہ لیا مگر بدقسمتی میں کہیں بھی مجھے اسلام شرح کا نام نظر نہ آیا خواتین کی آزادی ضرور ہونی چاہیے جو کہ قرآن و سنت میں انہیں تفویض کی گئی ہے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ می ٹو میرا جسم میری مرضی کھانا پکانے والی مشینیں نہ سمجھنے والے حقوق عورت کیلئے نہیں بلکہ ان کے جائز مطالبات تحفظ کاروکاری سے نجات مرضی کی شادی جائیدادوں میں حصے وغیرہ پر قانون بننے چاہیں اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیریں رحمان نے کہا کہ میں بات کو الجھانا نہیں چاہتی مگر محسن عزیز یہ بات اٹل ہے کہ کھانا آپ کو خود ہی گرم کرنا ہوگا ہاں البتہ آپ کی بیوی آپ کو گرم گرم چائے پیش کرسکتی ہے اس موقع پر ایوان میں قہقہ لگا

تو شیریں رحمان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد محترمہ بے نظیربھٹو نے اپنے کیریئر میں ہمیشہ خواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کی ہم ایک پراگرایسو پارٹی ہیں اور اپنے منشور سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے جسے تکلیف ہوتی ہے ہوتی رہے خاتون کو معاشرے میں برابر کا حصہ سمجھا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں ہماری جماعت سے جو بھی مناسب اقدامات ہوسکیں وہ ضرور کرینگے سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ خواتین کے حقوق پر کوئی قدغن نہیں ہونا چاہیے لیکن اسلام کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے جو ہدایات دی گئی ہیں ان کو ہر صورت اپنانا چاہیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…