جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جو خود کسی کے کنٹرول میں ہیں وہ مدارس کو کنٹرول کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں،اگر یہ کام نہ کیاگیا تو ہم کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کریں گے، علماء کرام نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |
فوٹو:انٹرنیٹ

اسلام آباد (این این آئی) وفاق المدارس العربیہ نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل نہ کیا گیا تو ہم کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کرسکیں گے، جو خود کسی کے کنٹرول میں ہیں وہ مدارس کو کنٹرول کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں، دینی مدارس قومی دھارے میں ہیں حکومتی ادارے قومی، اسلامی اورآئینی دائرے میں واپس آ جائیں،سرکاری امداد اور وظائف کو مسترد کرتے ہیں کسی چال میں نہیں آئیں گے،

اگر خدانخواستہ کبھی پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا تو اہلِ مدارس فوج کے شانہ بشانہ دفاع وطن کیلئے پیش پیش ہوں گے، مدارس اپنے معیار تعلیم کو بہتر اور داخلی نظام کو مستحکم کریں، رجوع الی اللہ اور باہمی اتحاد و اعتماد ہماری قوت ہے اسے ہر قیمت پر برقرار رکھیں۔ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری، سینئر نائب صدر مولانا انوار الحق، مولانا قاضی عبدالرشید،مولانا ڈاکٹر عادل خان،مولانا ڈاکٹر سعید اسکندر، مولانا امداد اللہ، مولانا صلاح الدین ایم این اے، مولانا اصلاح الدین حقانی، مولانا مفتی غلام الرحمن اور دیگر نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ امداد العلوم درویش مسجد پشاور میں ایک عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں مولانا طلحہ رحمانی، مولانا قاری فیاض الرحمن علوی، انجینئر عبدالمنان آف مکہ مکرمہ،ممولانا مفتی کفایت اللہ،مولانا عبدالمجید ناظم دفتر وفاق المدارس، چودھری ریاض، مولانا حبیب الرحمن،مولانا داود فقیر،مولانا قاری عبدالواحد مکی، مولانا عبدالقدوس محمدی،مولانا مفتی سراج الحق،مولانا احمد حنیف جالندھری،مولانا مفتی سراج الحسن، مولانا سہیل درویش،مولانا محب اللہ، مولانا سلمان اور دیگر علمائے کرام اور اہل مدارس کی بڑی تعداد نے شرکت کی-تمام شرکاء نے پروگرام کے بہترین انتظامات پر منتطمین کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر گزشتہ 6 سالوں کے دوران وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ امتحانات میں پوزیشنیں حاصل کرنے والے

طلبہ وطالبات میں انعامات اور ان کے مدارس میں اعزازات تقسیمِ کیے گئے-وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اپنے اس دیرینہ موقف کااعادہ کیا کہ مدارس کی حریت و آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے مطالبہ کیا کہ مدارس اور حکومت کے مابین ہونے والے معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے-انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہوا اور کسی قسم کی بدنیتی کاشبہ ہوا تو ہم کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کر سکیں گے- کانفرنس کے دوران ہزاروں علماء و طلبہ نے ہاتھ بلند کر کے وفاق المدارس پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور قائدین وفاق کی طرف سے ملنے والی کسی قسم کی ہدایات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی-اس موقع پر سرکاری امداد اور وظائف کو بھی مسترد کر دیا گیا

اسے ایک چال،مدارس کی پالیسی سے متصادم اور اکابر کی روایات کے منافی قرار دیاگیااور مدارس یا طلبہ کو کسی قسم کی سرکاری امداد قبول نہ کرنے کی ہدایت کی گئی-مقررین نے کہا کہ اگر خدانخواستہ وطن عزیز پر کبھی کوئی مشکل وقت آیا تو ہم فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے-مقررین نے دینی مدارس کی اصلاحات کو اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات ہم خود کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن کسی کی ڈکٹیشن پر کسی قسم کی اصلاحات ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں -انہوں نے کہا کہ مدارس اور علماء پہلے سے قومی دھارے میں ہیں انہیں قومی دھارے میں آنے کا کہنے والے پہلے خود قومی، اسلامی اور آئینی دھارے میں واپس آئیں۔قائدین وفاق المدارس نے کہا کہ جو خود کسی اور کے کنٹرول میں ہیں وہ دینی مدارس کو کنٹرول میں لینے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں -کانفرنس سے جنرل سیکرٹری وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری کے ولولہ انگیز خطاب کو خوب سراہا گیا اور ان کے جامع خطاب کو تمام اہلِ مدارس کے دل کی آواز قرار دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…