بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

آرمی ایکٹ میں ابھی ترمیم نہیں ہوئی،آرمی ایکٹ میں ترمیم کی صوابدید کس کے پاس ہے؟ حیرت انگیز اور چونکا دینے والا دعویٰ کر دیا گیا

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم قانون سازی کے بعد ہوگی۔ ترمیم ابھی نہیں ہوئی۔ وزیراعظم آفس کی صوابدید ہے کہ وہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کرتا ہے یا نہیں۔ وزیراعظم آفس کسی کی ذاتی جاگیر نہیں،آنے والے وقت میں وہاں کوئی اور ہو گا۔ اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو موجودہ حکومت کو اقتدار سے فارغ کرنا ناگزیر ہے۔

گزشتہ روز ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں اپنی صدارت میں ہونیوالے پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آرمی ایکٹ کی منظوری کے لئے جلد بازی سے کام لیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی یہاں تک کہ جے یو آئی ف نے بھی آرمی ایکٹ کی منظوری پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ سیاسی جماعتوں کو حکومت کے طریقہ کار پر اعتراض تھا۔ سیاسی جماعتوں کا آرمی ایکٹ کے حوالے سے پہلے دن ہی فیصلہ تھا کہ قومی ادارے کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ میڈیا کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گزشتہ 72 سالوں میں آج پہلا موقع ہے کہ ان ہاؤس میں تبدیلی لانا انتہائی آسان ہے۔ حکومت کو قومی اسمبلی میں صرف پانچ ارکان کی برتری حاصل ہے لیکن ان ہاؤس تبدیلی ملک میں نئے الیکشن کے لئے ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی پسند کے نمائندے دوبارہ چن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی بلکہ آج سوشل میڈیا پر ووٹر کہہ رہا ہے کہ مجھے عزت دو، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے انتقامی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ حکومت ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود جنوبی پنجاب میں اب تک سیکرٹریٹ نہیں بناسکی۔ موجودہ مہنگائی کی وجہ سے مزدوروں کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے کی فیکٹریاں لگانے والے بھی پریشان ہیں۔ رانا ثناء اللہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ملک ندیم کامران،

اویس لغاری، رانا مشہود، رانا ارشد، خواجہ عمران نذیر، منشاء بٹ سمیت دیگر پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ جس میں چار قرار دادیں منظور کی گئیں۔ منظور کی جانیوالی قرار دادوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سیاسی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا اور شریف خاندان کے لوگوں سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور مقدمات کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…