جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان نے دوبارہ سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیا، نئی تحریک کا آغاز کہاں سے کریں گے؟ دھماکہ خیز اعلان کر دیا گیا

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ 20 جولائی 2018 کے بعد سیاستدانوں نے جو متفقہ بیانیہ دیا ہمارا وہی بیانیہ چل رہا ہے اور ہم آنے والے چند مہینوں میں پھر سے سڑکوں پر آنا چاہتے ہیں،نئی تحریک کا آغاز پنجاب سے کریں گے،ان ہاؤس تبدیلی اور قبل از وقت انتخابات دونوں دیکھ رہا ہوں،اپوزیشن کی وحدت سے حکومت کمزور ہوتی ہے اور اگر اپوزیشن بکھر جائے تو حکومت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی سرکاری آفیسر کی تقرری کو سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہیے لیکن حکومت نے خود توسیع کے مسئلہ کوعدلیہ میں گھسیٹا۔ خود عدالت میں سمریاں بھیج کر اس معاملے کو پیچیدہ بنایا گیا اور ادارے کو بے توقیر کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون سازی میں حصہ نہ لے کر ناجائز اسمبلی اور نااہل ہونے کے حوالے سے اپنے بیانیہ کو ترویج دی۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف اورشہبازشریف سے فون پر بات کی،پیپلزپارٹی سے بھی بات ہوئی،پیپلزپارٹی نے ترامیم کی بات کی لیکن پھر وہ بھی واپس لے لیں اگر ووٹ دینا تھا تو پھرمندرجات کو سامنے رکھتے۔انہوں نے کہا کہ (ق)لیگ کی قیادت کے ساتھ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دینی مدارس کو ہر صورت آزاد رکھا جائے گا، دنیا نے مذہبی مدارس کا منفی تاثر دیا ہوا ہے، دینی مدارس ہمارے ملک کی جڑیں ہیں اور وہ کمزور جڑیں نہیں ہے، ہمیں اپنے تعلیمی نصاب پر اطمینان ہے،مدارس کے نظام کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور ہم مدارس کی آزادی کے حوالہ سے ایک مربوت نظام بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اتحاد تنظیمات دینیہ کے رہنماؤں سے ملاقات ہوئی،اب تک حکومت کے ساتھ مدارس کے متعلق مذاکرات ہوئے ہیں مدارس پر کچھ معاہدات بھی ہوئے اس پر مشاورت کی گئی اس بات پر اتفاق ہے مدارس کی آزادی کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران کبھی کہتے دینی مدارس کی اصلاحات کر رہے ہیں اور کبھی کہتے ہیں قومی دھارے میں لا رہے ہیں،یہ باتیں منفی رحجان پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مطابق قوم وقت اس پوزیشن میں ہے اسے قبر میں اتار دیا گیا ہے،

یہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں،حکمرانوں سے جان چھڑانا قومی فریضہ بن چکا ہے،نااہل حکمران کیوں قوم پر حکومت کریں،آزادی مارچ میں عوام کا فیصلہ سامنے آ گیا تھا،دس لاکھ افراد مارچ میں شریک ہوئے تو کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ناجائز حکمرانوں کا سفینہ ڈبونے نکلے تھے لیکن اپوزیشن والے خود اپنا ہی سفینہ لے ڈوبے،رابطے میں ہوں نئی تحریک کا آغاز پنجاب سے کریں گے،ان ہاؤس تبدیلی اور قبل از وقت انتخابات دونوں دیکھ رہا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…