جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

زینب الرٹ بل: زینب کے والد کا ردعمل سامنے آ گیا ملزم کو  کیا سزا ملنی چاہیے ؟ والد نے اہم ترین مطالبہ کر دیا

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن ) قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل کی منطور ی دے دی گئی ہے جس کے بعد لاپتہ بچوں کی بازیابی کو رپورٹ کرنے کے لئے ایک ایجنسی تشکیل دی جائے گی جس میں لاپتہ ہونے والے بچوں کی رپورٹ جمع کروائی جائے گی اور اس پر فوری کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

اسی موقع پر نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے زینب کے والد کا کہنا تھا کہ ملزم کو عمر قید کی بجائے سزائے موت دینی چاہیئے۔مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اس کیفیت سے میں گزرا ہوں، اس تکلیف کا اندازہ بھی صرف مجھے ہے، اس لئے میری درخواست ہے کہ اس معاملے میں عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کیا جائے۔اس  بل کی منصوری کے بعد ایک ایسی یجنسی بنائی جائے گی جس کا نام ننھی زینب کے نام سے منسوب ہو گا ، جس کا نام زینب الرٹ ریسپونس اینڈ ریکوری (ZARRA) ہو گا۔اس ایجنسی کو بنانے کا مقصد پاکستان میں برھتی ہوئی جنسی زیادتی کو روکنا ہے۔اس ایجنسی میں کسی بھی وقت بچوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات کو رپورٹ کیا جا سکے گا اور اس پرفورا کاروائی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس معاملے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے زینب کے والد نے درخواست کی ہے کہ حکومت کو اس عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کردینا چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…