جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

فیکٹریوں سے نکلنے والا کیمیکل اور فضلہ سے کھانے کا آئل اور صابن تیار ہونے لگا، پولیس نے گھناؤنے کام کی کھلی چھٹی دیدی، دھماکہ خیز انکشافات

datetime 6  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) ایس ایچ او ابراہیم حیدری کی سرپرستی میں گھناونے کام کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔کھانے میں استعمال ہونے والا غلاظت سے بھرا تیل تیار کیا جا رہا ہے۔ تھانہ ابراہیم حیدری کی حدود میں جعلی خود ساختہ فیکٹریاں قائم کر دی گئی ان خود ساختہ فیکٹریوں میں کھانے کا آئل اور صابن میں کام آنے والی غلاظت تیار کی جاتی ہے۔

فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور کا کہنا ہے کہ اس گندے نالے سے غلاظت جمع کرنے کے بعد اسے پکایا جاتا ہے۔اس کے بعد کچھ لوگوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔کچھ جعلی صابن بنانے والی فیکٹریاں یہاں سے گندگی خرید کر لے جاتی ہے۔یہ غلاظت مختلف فیکٹریوں سے نکلنا والا کیمیکل اور فضلہ ہے۔ ذرائع کے مطابق آبادی کے اندر قائم کارخانوں میں جعلی خوردنی تیل اور صابن میں استعمال ہونے والی جھاگ تیار کی جاتی ہے۔فیکٹری میں کام کرنے والے فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او ابراہیم حیدری کو پیسے دئیے جاتے ہیں فیکٹری مالک نے مزید کہا کہ موبائل اور موٹر سائیکل گشت پر معمور پولیس اہلکاروں کو بھی پیسے دے رہا ہوں۔واضع ہو کہ کچھ دن پہلے سکھن کی حدود میں جعلی صابن کی فیکٹریوں کو بند کیا گیا تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ فیکٹریاں دوبارہ کھل گئی اور دوبارہ غلاظت بھرا کام شروع کر دیا گیا۔شادمان ٹاؤن ملیر نزد برف خانہ کے نزدیک گزشتہ 4 دن سے گٹر بند ہیں اور ان کا پانی گلیوں میں پھیلتا جا رہا ہے۔سیوریج کینیہ صورتحال اکثر یہی ہوتی ہے یو سی چیئرمین اور کونسلرز حضرات کو کبھی توفیق نہیں ہوء کہ اس مسئلے کو حل کریں۔ یہاں سے پی ٹی آء کے ایم این اے اکرم چیمہ منتخب ہوئے ہیں جو کہ الیکشن کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…