جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ترکی سے ملک بدر 110پاکستانی اسلام آباد پہنچ گئے ،2 افراد کی حالت ایسی کہ آپ بھی کانپ اٹھیں گے

datetime 30  دسمبر‬‮  2019 |

راولپنڈی( آن لائن ) ترک حکام کی جانب ے ملک بدر کیے گئے 110 پاکستانی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچ گئے جن میں سے 2 افراد کی پسلیاں اور ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے۔ڈی پورٹ کیے گئے دونوں زخمیوں میں سے رحمت جاوید سیالکوٹ جبکہ زبیر حسین اسلام آباد کے رہائشی ہیں جن کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث پمز میں داخل کروادیا گیا۔

اس ضمن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ قید کے دوران دونوں افراد کو تشدد کر کے زخمی کیا گیا۔ترکی کے قید خانوں میں موجود پاکستانیوں کی درست تعداد کا علم نہیں لیکن حکام کا کہنا تھا کہ وہاں بڑی تعداد میں لوگ ہیں۔ایئرپورٹ پہنچنے پر ڈی پورٹ ہونے والے تمام افراد کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے انسداد انسانی ٹریفکنگ سیل کی قیدی وینز میں لے جایا گیا جبکہ 2 زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کروادیا گیا۔ان 110 افراد میں سے 42 کا تعلق گجرات، 38 کا گوجرانوالہ، 24 کا پشاور، 3 کا اسلام آباد اور 2 کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے جنہیں ترک حکام نے غیر قانونی طور پر ملک میں داخلے کے وقت پکڑا تھا۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستانی بہتر مواقعوں کی تلاش میں دشوار گزار زمینی راستوں سے سفر کر کے ترکی پہنچے تھے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔سینئر عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ملک بدر کیے گئے افراد سلاخوں کے پیچھے ہیں جنہیں قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا اور مقامی عدالت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کسے رہا کیا جائے تاہم انہوں نے اپنے ملک میں کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔اس سے قبل ترکی کے مشرقی علاقے عادل جواز میں پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی الٹنے کے نتیجے میں 2 پاکستانی ہلاک ہوگئے تھے جس کی تصدیق ترجمان دفتر خارجہ نے بھی کی تھی۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا تھا کہ ترکی میں ہمارا سفارت خانہ اور استنبول میں قونصل جنرل مقامی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ مزید معلومات حاصل کی جائیں اور پاکستان کے شہریوں کو ممکنہ امداد فراہم کی جاسکیں۔بیان کے مطابق ترک حکام جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے بھرپور کام کررہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ جاں بحق افراد کی شناخت ہوتے ہی ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جائے گا اور لاشوں کی وطن واپسی کے لیے متاثرہ خاندانوں سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا تھا کہ دو پاکستانی جاں بحق ہوگئے ہیں تاہم دیگر 23 پاکستانیوں کو بچالیا گیا ہے جو مقامی ترک حکام کے پاس موجود ہیں اور جن کو طبی امداد کی ضرورت تھی انہیں امداد دی جارہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…