جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

تمام ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، رانا ثنا اللہ کیس کو میڈیا ٹرائل نہ بنائیں، ہم جیوری نہیں کسی کو سزا نہیں دے سکتے، شہریار آفریدی کا دعویٰ

datetime 25  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ منشیات برآمدگی کیس میں 17 روز میں تمام ثبوت عدالت کے سامنے رکھ دیئے تھے،منشیات برآمدگی کے کیس میں کسی بھی لیول پر ڈیل نہیں ہو گی، جتنا دباؤ آئے گا برداشت کروں گا،رانا ثناء بری نہیں ہوئے ضمانت ہوئی ہے، اب بھی ملزم ہیں،ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں،

رانا ثناء اللہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،ہم دل سے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، عدالتیں جس معاشرے میں نہیں ہوتیں وہ کھوکھلے ہو جاتے ہیں، تمام لیگل پروسیجر کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کو پڑھیں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ اے این ایف ایک پروفیشنل فورس ہے، ہم نے رانا ثناء اللہ منشیات برآمدگی کیس میں 17 روز میں تمام ثبوت عدالت کے سامنے رکھ دیئے تھے۔انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمدگی کے کیس میں کسی بھی لیول پر ڈیل نہیں ہو گی، جتنا دباؤ آئے گا برداشت کروں گا، تمام ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔میڈیا پر تاثر یہ دیا گیا کہ رانا ثناء اللہ شاید بری ہو گئے ہیں لیکن قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اب بھی ملزم ہیں۔انہوں نے کہاکہ میڈیا پر کہا گیا کہ کدھر ہے ویڈیو، میں بتا دوں کہ ویڈیو کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ رانا ثناء اللہ کے مختلف پوز والی ویڈیوز ہوں، ویڈیو اور فوٹیج میں فرق ہوتا ہے اور ہم نے تین ہفتے تک رانا ثناء اللہ کی نقل و حرکت کو چیک کیا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ میں ملک سے باہر تھا، تاثر دیا گیا کہ بھاگ گیا ہوں، ہم بھاگنے والے نہیں ہیں، ہم نے قانونی معاملات میں کوئی دخل اندازی نہیں کی، وقت ثابت کرے گا کہ یہ موسم ضمانتوں کا موسم ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پلیٹیلیٹس گر گئے لیکن وہ بیرون ملک جا کر علاج نہیں کروا رہے، نواز شریف باہر جا کر شاپنگ کر رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ رانا ثناء کے اثاثے کیسے بڑھے، رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ آمدنی کا ذریعہ پراپرٹی اور وکالت ہے لیکن آج تک ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پریس کانفرنس کے دوران 17 دسمبر کو تمام ثبوت پیش کیے، جب میں کہتا ہوں کہ جان اللہ کو دینی ہے تو اس کا مطلب ہے حلف ہے جو ہم اٹھاتے ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ ہم دل سے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، عدالتیں جس معاشرے میں نہیں ہوتیں وہ کھوکھلے ہو جاتے ہیں، تمام لیگل پروسیجر کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کو پڑھیں گے۔انہوں نے کہاکہ پہلے عدالتی فیصلہ آنے دیں، جب کیس کا ٹرائل شروع ہو گا تو قانونی نکات کا بغور جائزہ لے کر گواہان کو عدالت میں پیش کر دیں گے۔

شہریار آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم اپنی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں اور مجھ پر عمران خان کا اندھا اعتماد ہے۔ایک سوال کے جواب میں شہریار آفریدی نے کہا کہ ہم جیوری نہیں کسی کو سزا نہیں دے سکتے، مجھے جو فیڈ بیک ملتا ہے اس کی بنیاد پر بات کرتا ہوں، جب عدالتی فیصلہ آئے گا تو آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔انہوں نے تردید کی کہ میں کانفرنس میں لفظ ویڈیو نہیں بلکہ فوٹیج استعمال کیا تھا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ میڈیا کو تصویر کے دونوں رخ دیکھانے چاہیے، میڈیا کی بہت بڑی اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ رانا ثنا اللہ کیس کو میڈیا ٹرائل نہ بنائیں، کیا قوم اور میڈیا سانحہ ماڈل ٹاؤن بھول چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں کس نے معصوم لوگوں کو گولیاں ماریں؟انہوں نے کہاکہ میری یا اے این ایف کی کسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں، قانون کی حکمرانی پر کسی صورت سودے بازی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان سمیت پوری ٹیم کو اللہ کے بعد میڈیا نے عوامی شناخت دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…