جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم دماغی توازن کھوبیٹھے ہیں،حکومتی وزراء بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، دورہ سعودیہ بھیک مانگنے کیلئے کیا، مولانا عبدالغفور کا دھماکے دار دعویٰ

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری وسنیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے جمعیت علماء اسلام ضلع رحیم یارخان کے جنرل سیکرٹری مفتی نعمان حسن لدھیانوی اورمیاں خالد عزیزودیگر رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے آزاد ی مارچ سے حکومت کی بنیادیں ہل گئی ہیں وزیر اعظم دماغی توازن کھوبیٹھے ہیں،حکومتی وزراء بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جب کوئی بات نا بن رہی ہو گالم گلوچ کرتے رہتے ہیں،

وزیر اعظم کا حالیہ دورہ سعودی عرب سعودی حکومت سے بھیک مانگنے کے لئے ہے،کیونکہ دیوالیہ پن کا شکار ہو رہی ہے اس لئے وزیر اعظم بیرونی قرضوں پر انحصارکر رہے ہیں اس وقت حکومت کے پاس نہ تو ئی ویژن ہے اورنہ ہی کوئی نصب العین ہے حکومت نے ابھی تک عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے اورنوجوانوں کو ایک لاکھ نو کریاں اور50لاکھ گھر دینے کے وعدوں سے پسپائی اختیارکی ہوئی ہے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کی بجائے کئی محکمیں ختم کئے جارہے ہیں،وکلا ء اورڈکٹرو ں کا جو تصادم ہوا ہے،قصورجس کا بھی ہے یہ تصادم کیوں ہواکیوں نہیں روکا گیا اوپر سے نیچے تک صلاحیت کا فقدان ہے جب تک کوئی مسئلہ ناسور بن جائے اس وقت تک کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا،وزیر اعظم نے یہ کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خود کشی کر لوں گا اب قرضوں پر قرضے لے رہے ہیں ڈالر کو 60روپے تک لے جانے کا کہا تھا لیکن اب ڈالر ایک سو ساٹھ روپے کا ہو گیا ہے اب ملکی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام مایوسی کا شکا رنہ ہوں جلد قوم کو خوش خبری ملنے والی ہے اوراس نااہل حکومت سے جلد نجات ملنے والی ہے،ہماری حکومت کے خلاف تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے اورہماری یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک موجودہ حکمران ہٹا نہیں دیئے جاتے،وزیر اعظم پاکستان نے پچھلے دنوں شان رسالت میں نازیبا الفاظ کہے اس کی ہم بھرپورمذمت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…