جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا وہ وکلاء نہیں بلکہ کون لوگ تھے ؟ وکلاء کی جانب سےاعظم نذیر تارڑ نے میں حیرت انگیز انکشافات کر دیئے

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے پی آئی سی پر حملے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں گرفتار وکلاء کی رہائی کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور اور ایڈووکیٹ جنرل سمیت دیگر کو نوٹس جاری کردئیے،فاضل عدالت نے وکلاء کے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی عدالت کے زخمی وکلاء کے

میڈیکل کرانے کے فیصلے پر عملدرآمد کے احکامات بھی جاری کر دئیے، فاضل بنچ نے وکلاء کے انتہائی اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ کو اندازہ نہیں ہم کس دکھ میں مبتلاہیں، ہم بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں،وکلاء کی ہسپتال پر حملہ کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟، اس طرح تو جنگوں میں بھی نہیں ہوتا، جنگل کے قانون میں معاشرے نہیں بچتے۔بنچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ کے پروفیشن میں کالی بھیڑیں ہیں،آپ اس کو وقوعہ کہتے ہیں؟۔ہم بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں تو ابھی اس کیس کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔دکھ اس بات کا ہے آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جی ہم مذمت کر رہے ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہاکہ آپ سر عام تسلیم کریں، آپ نے پلاننگ کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ہم وکلا ء کیخلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔ بنچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ہمیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، اس طرح جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے کہاکہ ایک ویڈیو بڑی عجیب ہے جس میں وکیل کہہ رہا ہے یہ ڈاکٹر موت ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ مکمل وکلا ء کمیونٹی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، اس ملک کا آئین سپریم ہے، جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا وہ تمام لیسکو کے ملازمین ہیں، لوگوں نے موقع پر کپڑے تبدیل کئے اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا، یقینا اس واقعہ کے بعد انتظامیہ پر سماجی پریشر تھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…