پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا وہ وکلاء نہیں بلکہ کون لوگ تھے ؟ وکلاء کی جانب سےاعظم نذیر تارڑ نے میں حیرت انگیز انکشافات کر دیئے

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے پی آئی سی پر حملے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں گرفتار وکلاء کی رہائی کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور اور ایڈووکیٹ جنرل سمیت دیگر کو نوٹس جاری کردئیے،فاضل عدالت نے وکلاء کے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی عدالت کے زخمی وکلاء کے

میڈیکل کرانے کے فیصلے پر عملدرآمد کے احکامات بھی جاری کر دئیے، فاضل بنچ نے وکلاء کے انتہائی اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ کو اندازہ نہیں ہم کس دکھ میں مبتلاہیں، ہم بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں،وکلاء کی ہسپتال پر حملہ کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟، اس طرح تو جنگوں میں بھی نہیں ہوتا، جنگل کے قانون میں معاشرے نہیں بچتے۔بنچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ کے پروفیشن میں کالی بھیڑیں ہیں،آپ اس کو وقوعہ کہتے ہیں؟۔ہم بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں تو ابھی اس کیس کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔دکھ اس بات کا ہے آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جی ہم مذمت کر رہے ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہاکہ آپ سر عام تسلیم کریں، آپ نے پلاننگ کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ہم وکلا ء کیخلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔ بنچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ہمیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، اس طرح جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے کہاکہ ایک ویڈیو بڑی عجیب ہے جس میں وکیل کہہ رہا ہے یہ ڈاکٹر موت ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ مکمل وکلا ء کمیونٹی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، اس ملک کا آئین سپریم ہے، جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا وہ تمام لیسکو کے ملازمین ہیں، لوگوں نے موقع پر کپڑے تبدیل کئے اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود انتظامیہ نے کچھ نہیں کیا، یقینا اس واقعہ کے بعد انتظامیہ پر سماجی پریشر تھا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…