بگڑے ہوئے وکلاء کیخلاف ایکشن ! جو کام کوئی اور نہ کر سکا وہ جسٹس اطہرمن اللہ نے کر دکھایا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو ’ شیر کا بچہ ‘ قرار دے دیا گیا

  جمعہ‬‮ 13 دسمبر‬‮ 2019  |  18:51

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف تجزیہ نگار عامر متین کا کہنا ہے کہ ججز میں ایک شیر کے بچے نے جنرل سیکریٹری اسلام آباد بار کو معطل کر دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ججز کا رول بہت کمزور سا ہے لیکن چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیروں کی طرح فیصلہ سنایا اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے جنرل سیکریٹری عمیر بلوچ کو معطل کیا ہے۔ماضی میں ایسے بےشمار واقعات رونما ہوئےلیکن کس جج نے اتنی ہمت نہیں کی وہ وکلاء پر ہاتھ ڈالے ۔ عامر متین کا مزید کہنا تھا کہ ججز وزیراعظم کو گھر بھیج سکتے


ہیں ، صحافیوں سمیت بیورو کریسی کو لٹکا دیتے ہیں لیکن جب وکلاء کی باری آتی ہے تو کوئی ایکشن میں نہیں نظر آتا ۔ ججز میں اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ وکلاء کو ہاتھ ڈالے لیکن ایک شیر کے بچے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جنرل سیکریٹری عمیر بلوچ کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین صفحات پر مشتمل شوکاز نوٹس جاری کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق اسلا م آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت وکلاکو کمرہ عدالت سے زبردستی باہر نکالنے کے معاملے پر سیکرٹری اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن عمیر بلوچ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیاہے اورسیکریٹری کا اسلام آباد ہائیکورٹ کی حد تک لائسنس معطل کر دیاہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری محمد عمیر بلوچ کا لائسنس عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے ان کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور اگلی سماعت پر ان سے وضاحت طلب کی ہے جبکہ عدالت نے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین، اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین، سپریم کورٹ بار کے صدر اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔اگلی سماعت 19 دسمبر کو ہو گی۔ جب آج میں کمرۂ عدالت میں داخل ہوا تو مسٹر محمد عمیر بلوچ سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن وکلاء کو عدالت چھوڑنے پر زبردستی مجبور کر رہے تھے، سماعت شروع ہونے کے باوجود بھی انہوں نے ایسا کرنا جاری رکھا، انہیں عدالت کے ڈیکورم اور سماعت کو متاثر کرنے سے روکا تو اس کے جواب میں وہ روسٹرم پر آئے اور انہوں نے ایک ان رول وکیل کےکنڈکٹ کے برعکس لہجہ اختیار کیا، انہوں نے کہا انہیں روکنے کی بجائے ججوں کوبھی چاہیے کہ وہ اس ہڑتال کی حوصلہ افزائی کریں، دوسرے معزز وکلاء جو وہاں موجود تھے وہ عمیر بلوچ کو کمرۂ عدالت چھوڑنے کے لیے کہتے رہے۔دوسرے معزز جج صاحبان نے یہ بیان کیا ہے کہ عمیر بلوچ ایڈووکیٹ سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالتی سماعت میں مداخلت کی ہے اور وکلاء کوکمرۂ عدالتوں کو چھوڑنے کے لیے مجبور کرتے رہے، ان کا یہ اقدام متاثرین کو ان کے انصاف تک رسائی دینے کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔مسٹر عمیر بلوچ ایڈووکیٹ سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی حرکات ان کے پیشہ ورانہ امور میں مس کنڈکٹ ہے اور آرڈیننس 2003ء کے تحت توہین عدالت میں قابل سزا ہیں۔آفس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مسٹرمحمد عمیر بلوچ ایڈووکیٹ سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو شوکاز نوٹس جاری کرے اور ان سے وضاحت طلب کی جائے کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت آرڈیننس 2003ء کے تحت سزا دی جائے۔ آفس کو یہ بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل کو معاونت کے لیے بھی نوٹسز جاری کرے۔آفس کو مزید ہدایت کی جاتی ہے کہ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی نوٹسز جاری کئے جائیں۔درج بالا معاملے کی سنگینی اور کنڈکٹ کو دیکھتے ہوئے عمیر بلوچ ایڈووکیٹ کا لیگل پریکٹشنرز اور بار کونسل ایکٹ 1973ء کے تحت اگلی سماعت تک لائسنس معطل کیا جاتا ہے اور انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پریکٹس سے روکا جاتا ہے۔ عدالت نے آفس کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہعدالت کا یہ حکم نامہ خصوصی پیغام رساں کے ذریعے محمد عمیر بلوچ ایڈووکیٹ سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل اور اسلام آباد ایڈووکیٹ جنرل کو عدالتی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے۔مقدمے کو 19 دسمبر کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔


موضوعات: