جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ایف بی آر کا شناختی کارڈ موقف اٹل ہے، تاجروں تنظیموں نے شناختی کارڈ کی شرط قبول کر لی،چیئرمین ایف بی آر کا دعویٰ

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ایف بی آر کا شناختی کارڈ موقف اٹل ہے کچھ تاجر تنظیمیں بھی اتفاق رکھتی ہیں چئیرمین ایف بی آر کا سینیٹ قائمہ کمیٹی میں انکشاف، پچاس ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ضروری ہوگا،تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے چئیرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ تاجروں تنظیموں نے شناختی کارڈ کی شرط قبول کر لی ہے،اس موقع پر شبر زیدی نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم تیارکر لی ہے جس کے مطابق چھوٹے تاجروں پر دس کروڑ روپے ٹرن اوور کر 0.5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسکیم کو جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ہے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان طے پانیوالے معاہدے کے تحت 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط برقرار رہے گی، 30 جنوری کے بعد شناختی کارڈ کی شرط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم نے تاجروں کے مطالبات تسلیم کیے ہیں چھوٹے تاجروں کی رجسٹریشن، تنازعات اور بڑے ریٹیلیرز کی رجسٹریشن کے لیے مارکیٹ کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں۔اجلاس میں کمیٹی کو ٹیکس کولیکشن کے حوالے سے بنائی گئی ایپلیکشن کے فیچرز پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس ایپلیکشن سے عوام کو برا راست فائدہ پہنچے گا اس جدید ایپ کو اس وقت تک تین لاکھ سے زائد لوگوں اس ایپلیکشن پر اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں،دوسری جانب سینیٹر مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں شناختی کارڈ کا غلط استعمال ہورہا ہے شناختی کارڈ مرد کا ہو یا خاتون کا کسی سینہیں مانگنا چاہیئے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں شناختی کارڈ دکھانا نا مناسب سمجھا جاتا ہے

شناختی کارڈ کی شرط پانچ لاکھ روپے کی خریداری پر عائد کی جائیانہوں نے مزید کہ پوری دنیا میں کہیں خریداری کی دوران شناختی کارڈ دکھانے کی شرط نہیں تو پاکستان میں کیوں ایسا نظام متعارف کروایا جا رہ ہے جو عوام کے لئے مشکلات برھائے گا،شناختی کارڈ کی شرط سے عام صارفین کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس حوالے سے چھوٹے دوکانداروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ضروری ہے وگرنہ چھوٹے دوکان داروں کا کاروبار ختم ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ گر یہ اقدام انتہائی ناگزیر ہے تو پچاس ہزار کی شرط کو ختم کر کے پانچ لاکھ تک بڑھا دینا چاہئے اسْ موقع پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک نے اس اہم نقطہ کی تائید کی۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…